اسلام آباد ( عمران مگھرانہ) دن دہاڑے اسلام آباد کے ایف سیکٹر میں ن لیگی سینیٹرکے گھر پر ڈکیتی کی واردات ہوئی جس پر سینیٹ داخلہ کمیٹی نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔اسلام آباد میں بڑھتے کرائمز پر سینیٹ داخلہ کمیٹی نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ارکان داخلہ کمیٹی نے اسلام آباد میں کرائمز کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔جب کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد غیر حاضر تھے۔ چیئرمین کمیٹی نے فون کروا کے آئی جی اسلام آباد کوبلوایا جس کے بعد بریفنگ شروع ہوئی۔ داخلہ کمیٹی نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر کے بریفنگ لی۔ سینیٹر نزہت صادق اپنے گھر ہونے والی ڈکیتی کے بارے میں بتاتے ہوئے جذباتی ہو گئیں۔عمومی بریفنگ کے بعد اجلاس ان کیمرہ کر دیاگیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے بتایا کہ آج کمیٹی نہ رکھنے کی گزارش کی گئی تھی، میں نے کہا حالات زیادہ خراب ہیں میں میٹنگ رکھوں گا، چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے مزید کہا کہ سینیٹ داخلہ کمیٹی کی ایمرجنسی میں میٹنگ بلوائی گئی ہے۔سینیٹر نزہت صادق کے گھر دن دہاڑے واردات ہوئی ہے، پوش علاقہ ہے پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟ سینیٹر محسن عزیز نے کہا اٹھارہ گھنٹوں سے کم کے نوٹس پرممبران کمیٹی پہنچے ہیں۔
اسلام آبادکے حالات مزید خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔آئی جی صاحب کو بھی آنا چاہئے تھا، صبح تک انہوں نے کنفرم کیا تھا۔سینیٹ داخلہ کمیٹی نے آئی جی اسلام آباد کو فون کر کے کمیٹی میں بلوا لیا۔سینیٹر نزہت صادق کے گھر دن کے ڈیڑھ بجے واردات ہوئی ہے جس کے بعد 15پر کال کی گئی مگر نمبر مصروف جا رہا تھا۔پولیس نے کال بیک کر کے کال کرنے کی وجہ جاننے کی کوشش تک نہیں کی تھی۔سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ گھر ہونے والی واردات کے بعد پولیس نے بڑا اچھا رسپانس دیا، جس کے ساتھ بھی ایسا سانحہ پیش آئے پولیس کی طرف سے اتنا اچھا رسپانس ملنا چاہئے، اللہ تعالی ہر کسی کو اس طرح کے ٹراما سے بچائے۔سینیٹر نزہت صادق نے بتایا کہ سفید گاڑی میں 6لوگ تھے، 3لوگ اندر گھر میں گھسے تھے،میرے شوہر گھر پر تھے باقی ہم سب لاہور میں تھے۔ ایف10میں 1ماہ میں 10ڈکیتیاں ہوئی ہیں۔گورنمنٹ کی ناک کے نیچے یہ کام ہو رہا ہے۔
میں نے اپنے شوہرعامر سے کہا پیسے اور جیولری رکھنی پڑے گی، ہم نے پیسے اور جیولری رکھی۔کون کون گھر پر نقدی اور زیورات رکھ سکتا ہے؟سینیٹر نزہت صادق نے مزید بتایا کہ سامنے والے گھر کے بچے نے گاڑی دیکھی، گاڑی کا نمبر دیکھا۔واردات کرنے والوں نے صاف ستھرے کپڑے پہن رکھے تھے۔ میرے شوہرعامر سے اردو میں جبکہ آپس میں پشتو بول رہے تھے، سینیٹر نزہت صادق نے سوال اٹھایا کہکیا ہم سب کچھ چھوڑ کر چلے جائیں۔۔؟ ہم اپنے ٹیکسز دیتے ہیں۔پانی کے لیے بورنگ، بجلی کے لیے سولر اور سیکیورٹی خود کرنی ہے تو پھر ٹیکسز کیوں دیں؟ سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے اس وقت بچے گھر پر نہیں تھے۔ سینیٹر نزہت صادق نے مطالبہ کیا کہ خدا کے لیے عوام کو سیکیورٹی فراہم کریں۔ سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ شہریوں کو آپ سیکیورٹی نہیں دے سکتے،بدنام گورنمنٹ ہو رہی ہے۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ایف ٹین کے علاقے میں بہت زیادہ وارداتیں ہو رہی ہیں، سلسلہ ایف6تک بھی آ گیا ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اسلام آباد میں 10ہزار سے زائد کیسز درج ہوئے ہیں،یہ کچے کا علاقہ تھوڑی ہے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اسلام آباد کو”سیف سٹی“ بھی ڈکلیئر کیا گیا تھا۔ آئی جی اسلام آباد نے اعتراف کیا کہ بہت زیادہ گینگ، بہت زیادہ گروہ بن چکے ہیں۔سیف سٹی کے 95فیصد کیمرے کام کر رہے ہیں۔سیف سٹی کا جب پلان بنا یا گیا تھا اس کے بعد اسلام آباد بہت پھیل گیا ہے۔یہ کیمرے30فیصداسلام آباد کی کوریج کر رہے ہیں۔پولیس حکام نے بتایا کہ50کے قریب گاڑیاں اور130کے قریب موٹر سائیکلز پیٹرولنگ پر ہوتی ہیں۔اسلام آباد پولیس نے 2021ء کے کرائمز کمیٹی سے چھپانے کی بھر پور کوشش کی۔اسلام آباد پولیس کی جانب سے کمیٹی کو 2020ء تک کا ڈیٹا فراہم کیا گیا۔آئی جی اسلام آباد نے اسلام آباد کی بڑھتی آبادی اور بڑھتے اسلام آباد کو کرائم کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔