اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )مریم نوازشریف نے کہاہے کہ آڈیو کی فرانزک امریکہ کے ایک ادارے میں کی گئی ، فرانزک کی رپورٹ بھی ہے ، آڈیویو کو جھوٹ ثابت کرنے کیلئے دن رات کوششیں کی گئیں ،ایک چینل نے صحافت کے ساتھ آڈیو کی فرانزک کا ذمہ بھی لیا ، میں اس چینل کا شکریہ ادا کرتی ہوں ، کہا گیا کہ یہ آڈیو مختلف تقریبات کی تقاریر سے جوڑ کر بنائی گئی ہے ، ثاقب نثار کا پہلا رد عمل یہ تھا کہ یہ آواز ہی میری نہیں ہے ، اس چینل نے جلدی جلدی میں یا کسی پریشر کے تحت یہ کہہ دیا کہ یہ ثاقب نثار کی آواز ہے لیکن یہ مختلف تقاریر سے آڈیو بنائی گئی ہے ، شکریہ ادا کرتی ہوں انہوں نے ثابت کر دیا کہ یہ آواز انہی کی ہے ، پھر ثاقب نثار کا بھی بیان آ گیا کہ یہ جوڑ توڑ کر بنوائی گئی ہے ۔ مریم نواز کا کہناتھا کہ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ یہ جو تین جملے ہیں، یہ فلاں تقرری سے اٹھائے گئے ہیں ، وہ تقاریر بھی سنائی گئیں ، میں بڑے ادب سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ
جو جملے سنا دیئے گئے ، وہ تو ہو سکتاہے کہ کوئی تکیہ کلام ہو، جیسے عمران خان اپنی ہر تقریر یہ کہتے ہیں ، آپ کو کچھ پتا نہیں ، گھبرانا نہیں ہے ، ہر روز وہ تقریر کریں گے تو ہر روز یہی الفاظ استعمال کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس آڈیو کے باقی جملے جو پورا خلاصہ ہیں ، جس میں ثاقب نثار کہہ رہے ہیں کہ ’ بدقسمتی سے ہمارے پاس ججمنٹ ادارے دیتے ہیں ، میاں صاحب کو سزا دینی ہے ، خان صاحب کو لانا ہے ،بنتا ہے یا نہیں بنتا ، اب کرنا پڑے گا ، دوسری سائیڈ پر موجود جج کہتے ہیں کہ بیٹی کی سزا نہیں بنتی ، ثاقب نثار کہتے ہیں میں نے اپنے دوستوں سے بھی یہی کہاہے کہ کچھ کیا جائے ، لیکن میرے دوستوں نے اتفاق نہیں کیا ۔ ان کا کہناتھا کہ پاکستان میں انصاف کس طرح سے عمل میں لایا جاتاہے ، یہ آپ سب کے سامنے ہے ، اصل جملے آپ چھپا گئے ہیں ، اس چینل سے سوال کرنا چاہتی ہوں ، جو پراپیگنڈہ کر رہے ہیں ،وہ جملے جو آپ ہضم کر گئے ہیں، وہ جملے جو ثاقب نثار کے خلاف چارج شیٹ اور اقرار ہیں ، یہ جملے ثاقب نثار نے کس تقرریر میں کہے تھے ، اگر کوئی ایسی تقرریر ہے تو ہم بھی دیکھنا چاہیں گے ۔
اصل بات کی طرف آتے ہیں ، بات یہ ہے کہ سب سے پہلی گواہی ، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ہے ، جو اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز اور موجودہ جج تھے ، انہوں نے سنگین الزامات لگائے ، انہوں نے کہا کہ جب مریم نواز اور نوازشریف کی درخواست آئی تو جنر ل فیض گھر تشریف لائے اور کہاکہ ضمانت الیکشن سے پہلے نہیں دینی ہے ، ورنہ آپ بینچ میں نہ بیٹھیں ۔ مریم نواز کا کہناتھا کہ وہ جج آج بھی موجود ہیں ، انصاف کے انتظار میں ریٹائر ہو گئے ہیں ، جنرل فیض اور شوکت صدیقی کو عدالت بلایا جائے اور قرآن پر حلف لیا جائے ، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ارشد ملک جنہوں نے نوازشریف کو نیب کے مقدمے میں سزا دی تھی ، ان کی ویڈیو میں نے اس وقت ریلیز کی تھی ، پوری دنیا کے سامنے ، ارشد ملک کو سچ بولنے کی پاداش میں نکال دیا گیا ، ان کو سزا دے دی گئی ، کھوسہ صاحب نے فرمایا کہ یہ جوڈیشری کے منہ پر کالا دھبہ ہے ،
وہ کالا دھبہ انہیں نکال کر دھویا گیا ، کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ آگے بڑھے اور نوازشریف کو انصاف دے ، مریم نواز کا کہناتھا کہ گلگت بلتستان کے چیف جج کا ایک حلف نامہ سامنے آیا جس میں انہوں نے یہ بات کہی کہ جب ثاقب نثار چیف جسٹس تھے تو یہ خاندان کے ساتھ چھٹیاں منانے گلگت بلتستان آئے تھے ، چیف جج گلگت بلتستان کے گھر کے لان میں چائے پی رہے تھے جب ان کے سامنے ثاقب نثار نے فون کیا کہ مریم اور نوازشریف کو الیکشن سے پہلے ضمانت نہیں دینی ۔ آڈیو میں شکوک و شبہات کر سکتے ہیں لیکن شوکت عزیز تو حیات ہیں ، ان کو بلائیں ، پوچھیں، چیف جج گلگت بلتستان کو بلائیں اور ان سے پوچھیں ، انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں ۔
مریم نواز کا کہناتھا کہ ثاقب ثنار سے جب پوچھا گیا کہ آپ ان الزامات کے آگے اپنا دفاع عدالت جا کر کریں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ کہ میں پاگل ہوں کہ کورٹ کچہری کے چکر لگاتا رہوں ۔اس وقت کا وزیراعظم وہ کوئی پاگل تھا جس نے اپنے پورے خاندان اور پوری پارٹی کے سمیت ، جانتے ہوئے کہ یہ انتقام ہے ، وہ قانون کے سامنے پیش ہوتے رہے ، اپنی تین نسلوں کا حساب دیا ۔
ان کا کہناتھا کہ میں ثاقب نثار کو کہنا چاہتی ہوں کہ آج نہیں تو کل سچ قوم کو بتانا پڑے گا ، ابھی بھی وقت ہے قوم کو بتائیں ، جرات کریں ، کہ کس نے آپ کو نوازشریف اور مریم نواز کو سزا دینے پر مجبور کیا ، کس نے کہا کہ عمران خان کو آپ نے لانا ہے ،اگر آپ کی نظر میں وہ سزا نہیں بنتی تھی جس کا اعتراف آپ نے آڈیو میں کیا تو آپ نے قانون اور انصاف کا قتل کیوں کیا ، آپ نے وہ سزا کس کے کہنے پر دی ، یہ آپ کو ایک نہ ایک دن قوم کو بتانا پڑے گا ، آپ انصاف کی سب سے بلند کرسی پر بیٹھے تھے ، وہ کون تھا جسے آپ چیف جسٹس آف پاکستان ہوتے ہوئے بھی انکار نہیں کر سکے ۔
حکومت ثاقب نثار کو نہیں بلکہ خود کو بچار ہی ہے ، ثاقب نثار سے درخواست ہے کہ آپ اپنا دفاع خود کریں جب یہ آپ کا دفاع کرتے ہیں تو آپ کا کیس مزید خراب ہوتاہے ، ثاقب نثار سے کہنا چاہتی ہوں کہ جب گلگت بلتستان کے چیف جج کا حلف نامہ آیا تو آپ کا بھی حلف نامہ آنا چاہیے تھا ، یہ جواب نہیں آنا چاہیے تھا کہ میں کوئی پاگل ہوں کبھی پیش نہیں ہوں گا، اب فرانزک رپورٹ آ گئی ہے تو آپ کو بھی فرانزک کیلئے خود کو پیش کرنا چاہیے ۔
میں ہنس رہی تھی کہ حکومت کہتی ہے کہ سب کے پیچھے ن لیگ ہے ، مجھے بڑی ہنسی آئی تو میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا ن لیگ نے نوازشریف کو اقامے پر نااہل کروایا، کیا ن لیگ نے جنرل فیض کو شوکت عزیز صدیقی کے پاس بھیجا تھا ، کیا ن لیگ نے پارٹی لیڈران پر جھوٹے مقدمات بنائے ، کیا ن لیگ نے الیکشن چوری کیا اور عمران خان کو وزیراعظم بنایا ۔
میرے دل میں عدلیہ کا احترام ہے ، جب جنرل فیض جیسا شخص ادارے کی آڑ میں چھپتا ہے تو وہ ادارے کو بدنام کرتاہے جب ثاقب نثار جیسا شخص ایسی حرکت کرتاہے تو انگلیاں ادارے پر اٹھتی ہیں، جس طرح پاکستانی افواج میں پیشہ ور اور محب وطن افسران ہیں ، ہم ان کی قدرکرتے ہیں ، وہ میرا ادارہ ہے ، ہمارا ادارہ ہے ، وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں تو ان کی عزت کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے ، اس لیے اگر ہم جنرل فیض کے خلاف ثبوت دیتے ہیں تو جنرل فیض کو ادارے سے الگ کریں ، جنرل فیض نے جو کام کیئے ہیں اس کے جواب وہ خود دیں ، ادارہ کیوں جواب دے ۔ اسی طرح عدلیہ سے گزارش ہے کہ ثاقب نثار اور وہ لوگ جو پانامہ میں ملوث تھے ان کے گناہوں کا بوجھ عدلیہ نہ اٹھائے ، جس کا سچ سامنے آ چکاہے ، اس کا بوجھ یہ عدلیہ نہ اٹھائے ۔ہم بطور جماعت ، بطور پاکستانی عدلیہ کو کسی بھی شک و شبہ اور تنقید سے بالاتر دیکھنا چاہتے ہیں ، یہ ملک ہمارا ہے ، یہ ملک کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک ایسی عدلیہ نہ ہو جو شک و شبہ اور تنقید سے بالا تر نہ ہو ۔