اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سری لنکن منیجر کے قتل کے واقعہ پر وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کا بیان سامنے آیا ہے جس پر عوام کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہا ر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سری لنکن منیجر کے سیالکوٹ میں قتل کے واقعہ پرمیڈیا سے بات کر3تے ہوئے کہا کہ ہم جب جوان ہوتے تھے تو پاگل ہوتے تھے ۔ اس واقعہ کو کسی جواز سے نہ جوڑا جائے ۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ بچوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے ان میں لڑائیاں بھی ہوجاتی ہیں ۔ بچے ہیں جب بڑے ہوتے ہیں اسلامی سوچ ہے تو بسا اوقات وہ جوش میں آجاتے ہیں، جذبات میں بہہ جاتے ہیں ۔ سیالکوٹ میں لڑکے اکٹھے ہوئے ،انہوںنے اسلام کا نعرہ لگایا کہ انہیں لگا اسلام کیخلاف کوئی کام ہوا ہے تو وہ جوش میں آگئے تو وہ کام ہو گیا (یعنی پریانتھا کمارا کا قتل ہو گیا ) ۔ پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی لوگوں کو سمجھائیں کہ نوجوان ہیں ، جذبات میں آجاتے ہیں ، دین کی بات ہے ، میں بھی جذبات میں آئوں گا ، کوئی غلط کام کر سکتا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستان تباہی کی طرف جا رہا ہے ۔ پرویز خٹک کی اس انوکھی اور افسوسناک منطق پر سوشل میڈیا پر انہیں آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے ۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز سیالکوٹ میں پر تشدد ہجوم نے ایک سری لنکن منیجر کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا تھا ۔
If you want to be stunned, go no further than this today. @PervezKhattakPK has something to say about why "stuff" like the #Sialkot happens😡😡😡@abbasnasir59 @NasimZehra @hyzaidi pic.twitter.com/oMjIox7eV0
— Kamran Rehmat (@kaamyabi) December 5, 2021