اسلام آباد(عمران مگھرانہ) قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا۔تلاوت،نعت اور قومی ترانے کے بعداسپیکر اسد قیصر نے اجلاس کی کاروائی وقفہ سوالات سے چلانے کی کوشش کی تو اپوزیشن ارکان اسمبلی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کے لیے مائیک مانگا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پہلے وقفہ سوالات ہو جائے اس کے بعد پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کا موقع دوں گا۔ اپوزیشن ارکان اسمبلی نے اسپیکر اسد قیصر کی ایک نہ سنی اور مسلسل پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کا مطالبہ کرتے رہے۔جس پر مجبور ہو کر اسپیکر اسد قیصر نے سید نوید قمر کو بولنے کا موقع فراہم کر دیا۔
سید نوید قمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وقفہ سوالات اہم ہوتا ہے، مگر کئی سوالات کے جوابات ہی نہیں آئے۔ملک میں گیس کی قلت ہے، حکومت بے حسی کے ساتھ بیٹھی ہے۔حکومتی ایم این اے نے کراچی میں گیس کی عدم فراہمی پر توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروا رکھا ہے۔کراچی میں گیس کے پریشر اور گیس کی عدم فراہمی پر حکومتی ایم این اے فہیم خان کاتوجہ دلاؤ نوٹس ایجنڈا میں شامل تھا۔
سید نوید قمر نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کی تضحیک ہو رہی ہے،ایک ہی دن میں آٹھ آٹھ آرڈیننس کی توسیع ہو رہی ہے۔ہم احتجاجاََ واک آؤٹ کرتے ہیں۔جس کے ساتھ سید نوید قمر نے کورم کی نشاندہی بھی کر دی۔قومی اسمبلی میں حکومت کے لیے کورم پورا کرنا اور کورم پورا رکھناایک مسئلہ بن چکا ہے۔
کورم پر وفاقی حکومت کو مسلسل سبکی کا سامنا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی قومی اسمبلی میں حاضری بہت کم ہے۔ چند وزراء کے سوا باقی وزراء اجلاس میں آنا ہی گوارا نہیں کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وزراء کی نشستیں عمومی طور پر خالی ہوتی ہیں۔ وزراء اور ارکان اسمبلی کی اکثریت تب ہی ایوان میں نظر آتی ہے جب وزیر اعظم نے اجلاس میں آنا ہوتا ہے۔
اسپیکر اسد قیصر نے کورم کی نشاندہی پر گنتی کروائی۔کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر کورم کی نظرہو گیا۔