اسلام آباد(عمران مگھرانہ) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس رانا تنویر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔وزارت خزانہ حکام نے 1240 ارب روپے کے کورونا ریلیف پیکج پرپی اے سی کو بریفنگ دی۔
وزارت خزانہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 1240 ارب روپے داوور آل پیکج ہے ایک سال کا نہیں ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1240 میں 365 ارب نان کیش تھا 875 ارب کیش پلان کیا گیا تھا۔پی اے سی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ 500 ارب میں صرف 186 ارب روپے جاری ہوسکے۔حنا ربانی کھر نے سوال اٹھایا کہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے 500 ارب روپے میں سے کتنے فنڈز خرچ کیے گئے۔
وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ 186 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ ارکان کمیٹی نے استفسار کیا کہ باقی 314 ارب روپے کب خرچ ہونگے؟دستاویزات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کورونا کی وجہ سے ڈیلی ویجز ورکرز کو ریلیف دینے کے لیے200ارب کے پیکج کا اعلان کیا تھا۔ڈیلی ویجز ورکرز کو ریلیف دینے کے لیے صرف16ارب روپے کی ضمنی گرانٹ جاری کی گئی۔
ڈیلی ویجز ورکرز کو ریلیف دینے کے لیے تاحال 184ارب روپے جاری نہ ہو سکے۔مستحق گھرانوں کو ریلیف دینے اور پناہ گاہوں کے لیے 150ارب روپے کے پیکج کااعلان کیا گیا تھا۔مستحق گھرانوں کو ریلیف دینے اور پناہ گاہوں کے لیے 145ارب روپے کی ضمنی گرانٹ جاری کی گئی تھی۔یوٹیلیٹی اسٹورز کے لئے 50 ارب کا اعلان کیا گیا 10ارب کی سپلیمنٹری گرانٹ جاری کی گئی۔
کورونا کے دوران پاور اور گیس کی سبسڈی کے لیے 100ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا گیا تھا۔گیس اور بجلی کی سبسڈی کے لیے صرف15ارب روپے کی ضمنی گرانٹ جاری کی گئی۔ارکان کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ 500 ارب میں سے 186ارب ریلیز ہوئے ہیں باقی کا کیا پلان ہے؟ وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ 500 ارب میں 314 ارب جاری نہ ہونے پرکمیٹی نے شدیدحیرانگی کا اظہار کیا۔
وزارت خزانہ حکام نے جواب دیا کہ متعلقہ وزارتوں کی طرف سے ڈیمانڈ آنے پر فنڈز جاری ہونگے۔جس پر حنا ربانی کھر نے کہا کہ اس طرح تو اگلے تین سو سال میں بھی یہ فنڈز خرچ نہیں ہونگے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر جھوٹ بولا گیا۔چیئرمین پی اے سے رانا تنویر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے سب اچھا کا تاثر دیا جارہا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وزارت خزانہ ہمیں گمراہ کرنے کے بجائے فنڈز کی اصل تصویر پیش کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ افسران کو اس فورم کے سامنے تو حقیقت بیان کرنی چاہئے۔دنیا بھر میں سیاستدان ایسا کرتے ہیں، ہمارے ہاں ذرا زیادہ ہوتا ہے۔اگر کسی نے چوکے چھکے مارے ہوئے ہیں تو ضرور بتائیں۔وزارت خزانہ کوروناریلیف پیکج کے معاملے پر پی اے سی کومطمئن کرنے میں ناکام ہوگئی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے خزانہ حکام کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تیاری کے ساتھ آئیں اور ایک ایک پیسے کا بتائیں۔ پی اے سی نے کورونا کی مد میں ملنے والے بیرونی فنڈز کی تفصیلات طلب کر لیں