اسلام آباد(عمران مگھرانہ) قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں شروع ہوا۔ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے وقفہ سوالات چلانے کی کوشش کی تو راجہ پرویز اشرف نے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کے لیے مائیک مانگا۔جس پر ڈپٹی اسپیکر نے ٹال مٹول کے بعد بولنے کا موقع دے دیا۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آج پرائیویٹ ممبر ڈے ہے اور پرائیویٹ ممبر ڈے پر وقفہ سوالات نہیں ہوتا ہے۔
جس پر ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ منگل کے علاوہ پرائیویٹ ممبر ڈے پر وقفہ سوالات ہوتا ہے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں حکومت منی بل یا منی بجٹ لا رہی ہے۔ہم منی بل پر مخالفت کریں گے۔خواجہ آصف نے اسٹیٹ بینک بل کو خود مختاری سرنڈر کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کی برانچ بن چکا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے روپ میں وائسرائے آ چکا ہے۔خواجہ آصف نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ بھی احساس کریں، 342ارکان بھی احساس کریں۔خواجہ آصف نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم منی بجٹ اور اسٹیٹ بینک بل کی ڈٹ کر مخالفت کریں گے۔ اپوزیشن نے حکومتی ارکان کو منی بل پر مخالفت کرنے کا مشورہ دے ڈالا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ تین ماہ کے بعد پھر ہم یہیں کھڑے ہوں گے۔ خواجہ آصف نے حکومت کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ چار دن کے بعد آپ کا کورم پورا ہوا ہے۔آپ کے پاس ووٹ نہیں ہیں یہ سہولت کاری سے ووٹ آئیں گے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ایک ایک کر کے ہم اپنی خود مختاری کی ساری چیزیں سرنڈر کر دیں گے۔
خواجہ آصف نے ایٹمی تنصیات کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔شاہ محمود قریشی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خود مختاری کا تحفظ کرنا ایوان کی ذمہ داری ہے۔پاکستان کی مالی اور معاشی حالت کیسے بگڑی ہے؟ شاہ محمود قریشی نے خواجہ آصف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک فاضل ممبر نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر کوئی ضرب آ سکتی ہے،
ان کے دل میں ایسا کوئی وسوسہ ہے تو نکال دیں۔شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران کورم کی نشاندہی کی گئی۔کورم کی نشاندہی پر ساری اپوزیشن ایوان سے لابی میں چلی گئی۔کورم کی نشاندہی کے دوران خواجہ آصف اور شاہ محمود قریشی کھسر پھسر کرتے رہے۔کورم پورا نکلنے پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع کروائی جس کے بعد شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اب آپ ہمت کریں گے تھوڑی دیر لابی میں ہی رہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورم کو پورا کرنا حکومت کا فرض ہے۔
ایوان کو فعال دیکھنا چاہتے ہیں تو گھڑی گھڑی کورم کی نشاندہی کرنا مناسب نہیں۔آج پرائیویٹ ممبر ڈے ہے،حکومت سے زیادہ اپوزیشن ارکان اسمبلی کی دلچسپی ہوتی ہے۔