مری میں جو انتہائی افسوس ناک اور دردناک اموات ہوئی ہیں اور اس سے جڑی حکمرانوں اور انتظامیہ افسران کی نالائقیاں سامنے آئی ہیں تو اس سے مجھے پھر وہی گورا لارڈ یاد آیا جس نے برٹش سرکار کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جو100 سال تک ہندوستان میں نافذالعمل رہا ہندوستانیوں( بشمول آج کے پاکستان ) کو انگریز سرکار میں اہم عہدے نہ دیے جائیں۔
انہیں ضلعے یا ڈویزن چلانے کی ذمہ داری نہ دی جائے۔ ان سے بس چھوٹے موٹے کام لیں جائیں کیونکہ یہ سب نالائق ہیں۔ اور قابل بھروسہ بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی نالائقی سے اپنا پورا ملک ڈبو دیا اور اگر ہم نے انہیں پھر ذمہ داریاں سونپ دیں تو یہ پھر ہماری انگریز سرکار کو بھی ڈبو دیں گے۔ صرف گورا افسر ہی اوپر بیٹھے گا۔
اس انگریز لاڈ کے حکم کے خلاف ایک سو سال بعد قائداعظم نے لیجسٹو اسمبلی میں قرارداد پیش کی تھی کہ ہم ہندوستانیوں کو بھی اعلی عہدوں پر تعنیات کیا جائے۔ انگریز سرکار ویسے ہی ہندوستان کو چھوڑ کر جانے کے پلان بنا رہی تھی انہوں نے کہا جی بسم اللہ۔ یہ لیں اپنا ہندوستان اور پاکستان اور اسے سنبھالیں۔ جس طرح مری میں سیاحوں اور ان کی لاکھوں گاڑیوں کو داخلے کی اجازت دے کر تین دن تک سرکاری بے حسی اور بے پرواہی دکھا کر فری فار آل کا نعرہ مار کر “سنبھالا “ گیا ہے وہ اس گورے لارڈ کی یاد دلاتا ہے کہ ہم کتنے نالائق ہیں۔