اسلام آباد(عمران مگھرانہ) قومی اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ سے زائد تاخیر سے شروع ہوا۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان اسمبلی کی اکثریت غیر حاضر تھی۔ سانحہ مری کی وجہ سے قومی اسمبلی کا تمام ایجنڈا موخر کر کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو تقریر کا موقع دیا گیا۔
شہباز شریف نے مری میں ہونے والی 23اموات کا حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔سانحہ مری کو شہباز شریف نے انتظامی نا اہلی نالائقی کا مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ مری انتظامی نا اہلی نا لائقی کا مجرمانہ فعل ہے جس کی کوئی معافی نہیں ہے۔
شہباز شریف نے حکومت سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب محکمہ موسمیات نے آگاہ کر دیا تھا تو پھر کیا انتظامات کیے گئے؟انہوں نے کہا کہ مجرمانہ غفلت اور نا اہلی سے خوشی کا موقع غم میں بدل گیا۔حکومت کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں 23افرادجاں بحق ہوئے یہ قتل معاف نہیں ہو گا۔شہباز شریف نے اپنے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لمبے بوٹوں اور چھتریوں کے طعنے دیتے تھے، آج آئینہ ان کو چہرہ دکھا رہا ہے۔
شہباز شریف نے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب حادثہ ہوا تو ایک نیرواسلام آباد میں سویا ہواتھادوسرا نیروپنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کے انتظامات میں مصروف تھا۔شہباز شریف نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران نیازی نے کہاہے انتظامیہ تیار نہیں تھی، انتظامیہ تیار نہیں تھی تو پھر آپ کس مرض کی دوا ہیں۔
آپ استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے شہباز شریف پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے سانحہ مری پر شعبدہ بازی کی،ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
شہباز شریف آج عدالت سے چھٹی لیکر ایوان آئے ہیں۔شہباز شریف جب وزیر اعلیٰ تھے تو100بچے آکسیجن نہ ملنے پرجان سے گئے تھے۔ماڈل ٹاؤن میں فائرنگ ہو رہی تھی،بادشاہ سلامت نے فرمایاٹی وی پر دیکھا فائرنگ ہو رہی تھی۔ایک لاکھ64ہزار گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں،24گھنٹوں کے اندر ریسکیو کام مکمل کیا گیا۔اپوزیشن کے شور شرابہ کرنے پر فواد چوہدری نے اپوزیشن ارکان اسمبلی کو چمچے، کھڑچے کا لقب دے ڈالا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ چھوٹے لوگ ہیں بڑے ایوان میں آ گئے ہیں۔بلاول زرداری نے حکومت اور وزراء کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک وزیر سوشل میڈیا پر جشن منا رہا تھا اسی وزیر نے پھر کہنا شروع کر دیاسیاحوں کو نہیں آنا چاہیے تھاایسی منافقت پاکستان کی تاریخ میں نہیں دیکھی۔جب وزیر اعظم کے خاندان کا ایک فردچترال میں پھنساہوا تھاتو ہر قدم اٹھایا گیا۔
سانحہ مری کے متاثرین وزیر اعظم کے گھر سے2گھنٹے دور تھے کوئی تو نوٹس لیتا۔بلاول زرداری نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری کا فضائی دورہ کیا۔وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب عوام کے حقیقی نمائندے ہوتے تو فوراََ مری پہنچتے۔سانحہ مری پر اپوزیشن نے حکومت کو لتاڑ تے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔حکومتی بدترین نا اہلی نے اپوزیشن کو حکومت پر شدید تنقیدکا موقع فراہم کر دیاہے۔