اسلام آباد(عمران مگھرانہ) سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا۔جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی گونج ایک مرتبہ پھر سینیٹ تک جا پہنچی۔رانا محمود الحسن نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں مزید ترمیم کرنے کا بل پیش کیا۔
جس پر حکومتی وزیر علی محمد خان نے بل کی مخالفت نہ کی اور بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔بل پر بحث کے دوران پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب صوبہ نہ بنانے کاجواز پیش کیا کہ ان کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں اس لیے پیپلز پارٹی دور میں صوبہ نہ بن سکا اور اب پی ٹی آئی حکومت کو بھی اسی مشکل کا سامنا ہے۔
سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالہ سے مقدمہ سینیٹ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، جنوبی پنجاب محرومیوں کے حوالے ایوان میں نوحہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے 100 روز میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت کو اس کے وعدے کی یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں۔
جنوبی پنجاب کی محرومیوں کی طویل داستان ہے۔جنوبی پنجاب کا کون کون سا رونا روئیں؟ڈی ایم جی میں صرف دو چار دانے سرائیکی بیلٹ کے ملیں گے۔ساری سیاسی جماعتیں جنوبی پنجاب صوبے کے حق میں ہیں۔جنوبی پنجاب میں بہاولپور اور ملتان میں دو الگ الگ سیکرٹریٹ بنادیے گئے۔لوگ پہلے بہاولپور جاتے ہیں پھر ملتان اور پھر ایڑیاں اٹھا اٹھا کرلاہور کی طرف دیکھتے ہیں۔
صاف پانی کے لیے ماؤں اور بہنوں کو 10،10 کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔جتناصاف پانی اسلام آباد کے پودوں کو ملتا ہے اتنا ہمیں مل جائے تو ہمارے نصیب جاگ جائیں،رانا محمود الحسن انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبے بنا دیں۔سرائیکیوں کے لیے سرائیکستان بنانے میں کیا مسئلہ ہے؟ چلیں جنوبی پنجاب کے نام سے صوبہ بنادیں۔انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبے بنائے جائیں۔
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم نے پنجاب سے تحریک کو پیش کروا دیا تھا۔قومی اسمبلی سے بھی تحریک کو بھجوایا گیا جس پر کمیشن بنایا گیا۔ہم یہ رپورٹ لیکر سینیٹ میں آئے۔ہم نے سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے بل پاس کروا لیا تھا تب سینٹ میں جنوبی پنجاب سے ہماری صرف ایک سینیٹر تھی۔ہمارے پاس قومی اسمبلی میں اکثریت نہیں تھی وگرنہ 5 منٹ میں صوبہ بن جاتا۔
سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ سیکرٹریٹ نہیں صوبہ ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ صوبہ دیں وہ کہتے ہیں سیکریٹریٹ لے جائیں،ہم رعایانہیں ہیں۔ہمیں اپنا وزیر اعلیٰ، اپنا گورنر چاہیے، ہمیں ایم این ایز اور سینیٹ کی سیٹوں کا کوٹہ چاہئے۔پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ تین ماہ میں صوبہ بنائیں گے، جنوبی پنجاب کی عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دے دیا۔
یہ سادہ لوگ ہیں،پسماندہ لوگ ہیں اس لیے پی ٹی آئی کو ووٹ دے دیے تھے۔پی ٹی آئی کے علی محمد خان نے کہا کہ آپ کو بڑی سپورٹ حاصل تھی۔وزیر اعظم اس حق میں ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانا چاہئے۔ علی محمد خان نے سید یوسف رضا گیلانی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ناکامی تو پیپلز پارٹی کی تھی آپ کو ذمہ داری لینی چاہیے۔
شاید بڑا کام کرنا پیپلز پارٹی کے نصیب میں نہیں تھا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم صوبے کے قیام کے حق میں ہیں۔جنوبی پنجاب بیک ورڈ ہے اسے وہ فنڈ نہ مل سکے جو دیے جانے چاہیں تھے۔ہم نے جنوبی پنجاب کے لئے الگ سے فنڈ مختص کیا،۔ہم نے الگ سیکرٹریٹ قائم کئے اسے آگے بھی بڑھائیں گے۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب صوبہ پر حکومت کو بات کرنے کی دعوت دے دی۔پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کے لیے شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی سے ساتھ دینے کاوعدہ مانگ لیا۔