اسلام آباد(عمران مگھرانہ)قومی اسمبلی کا اجلاس امجد خان نیازی کی زیر صدارت ہوا۔ تلاوت، نعت، حدیث اور قومی ترانہ کے بعد جب امجدخان نیازی نے اجلاس کی کاروائی چلانے کی کوشش کی تو پیپلز پارٹی کے ایم این اے سید آغا رفیع اللہ نے کہا کہ وزراء کی اکثریت غیر حاضر ہے اور حکومتی ایم این ایز کی کثیر تعداد بھی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا حکومتی بینچوں کی پہلی 3قطاریں خالی پڑی ہیں۔ سید آغا رفیع اللہ نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب مہنگائی کا طوفان لانا ہو تو فون کر کے بھی حکومتی ایم این ایزکو لایا جاتا ہے مگر جب عوامی فلاح کی بات کرنی ہو تو حکومتی ارکان کی اکثریت غیر حاضر ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اجلاس پر کتنے اخراجات آتے ہیں۔ سید آغا رفیع اللہ نے کہا کہ جب تک وزراء اور حکومتی ایم این ایز نہیں آئیں گے ہم اجلاس نہیں چلنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بار بار کورم کی نشاندہی کرتے ہیں ان کو ہوش آیاہے نہ ہی آ سکتا ہے۔ جس کے بعد سید آغا رفیع اللہ نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ وزراء اور حکومتی ارکان اسمبلی کی عدم دلچسپی کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس کورم کی نذر ہو گیا۔حکومتی اور اتحادی ایم این ایز کی غیر سنجیدگی نے ایوان کو تماشہ بنا ڈالاہے۔حکومتی خالی بینچو ں کو دیکھ کراپوزیشن کی ترجیح بھی کورم کی نشاندہی رہی ہے۔اجلاسوں پر آنے والے کروڑوں روپے کے اخراجات ا رکان کی عدم شرکت کی وجہ سے ضائع جارہے ہیں۔حکومتی بل پاس کروانے کے لیے ارکان اسمبلی کی تعداد پوری کر لی جاتی ہے۔عام اجلاسوں کے لیے حکومت کے لیے کورم پورا کرنا اور کورم پورا رکھنا ایک مسئلہ بن چکا ہے۔