اسلام آباد(عمران مگھرانہ) پرائیویٹ ممبر ڈے پر بھیقومی اسمبلی اجلاس کے دوران وزراء، حکومتی اور اپوزیشن ارکان اسمبلی کی اکثریت قومی اسمبلی اجلاس سے غیر حاضرتھے۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے قائمہ کمیٹیوں کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ مواصلات کمیٹیوں میں ٹھیکیدار بیٹھتے ہیں یا ٹھیکیدار اس کے چیئرمین بن جاتے ہیں۔پٹرولیم کمیٹی میں سی این جی یا پیٹرول پمپ مالکان کمیٹی ممبرز بن جاتے ہیں۔انڈسٹری منسٹری کے اندر صنعتکار آ جاتے ہیں۔جو کچھ نیب زدہ ہوں وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ممبر بن جاتے ہیں۔میں نے اسپیکر صاحب سے بھی بات کی تھی، میں پہلے بھی اس نقطے کو اٹھا چکا ہوں۔ہم نے ٹھیک کردار ادا کرنا ہے تو مفادات کے ٹکراؤ پر قانون سازی کرنی پڑے گی۔رولز آف بزنس میں تھوڑی سی تبدیلی کرنی ہے، یہ ملک کے لیے بہتر ہو گا۔وفاقی وزیر مواصلات نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب میں اپوزیشن میں تھا، دیکھتا تھا جو اپنا پرائیویٹ میڈیکل کالج بنانے جا رہا تھاوہ ہیلتھ کمیٹی کا ممبر بن جاتاتھا پھروہ ہیلتھ اتھارٹی کو لا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ آپ میرے میڈیکل کالج کی منظوری دے دیں۔ایجوکیشن، این ایچ اے،پیٹرولیم، انڈسٹری اور دیگر کمیٹیوں میں وہ ارکان ممبربن جاتے ہیں جن کا وہی کاروبار ہوتا ہے۔ہم اپنے کاروبار کے لیے نہیں، ملک اور قوم کے لیے قانون سازی کرنے آئے ہیں۔مراد سعید نے کہا کہ موٹرو ے کے اوپر ایک ایم این اے کو روکا جاتا ہے وہ اپنی گاڑی موٹروے کے درمیان میں کھڑی کر دیتا ہے، ویڈیو موجود ہے جب اس پر ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو استحقاق کمیٹی میں تمام ممبران مل جاتے ہیں، آئی جی کوکہتے ہیں معافی مانگو۔وہ کیسے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں گے،کیسے میرٹ پر فیصلے کریں گے؟ تمام ایوان کو ویڈیو دکھا دیتے ہیں۔ مراد سعید نے مزیدکہا کہ موٹر وے پر غیر رجسٹرڈ گاڑی پر سینیٹر کو روکا گیاکہ ایم ٹیگ کے بغیر آپ سفر نہیں کر سکتے جس پر سینیٹر نے دھمکی لگائی میں استحقاق کمیٹی میں بلواؤں گا۔آج وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہمارے ارکان کا مفاد کا ٹکراؤ ہو تو ہم کمیٹی تبدیل کر لیں گے۔ مراد سعید نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی جیلوں میں 12326، پنجاب کی جیلوں میں 52ہزارقیدی ہیں۔کوئی بھینس چور، کوئی مرغی چور تو کوئی معمولی چور ہے۔پنجاب میں 52ہزار میں 51468وہ قیدی ہیں جن کو سزا نہیں ہوئی۔آپ بڑے چور ہیں تو پھر ایوان میں آپ کے لیے بات بھی ہو گی۔میڈیا کے لیے روزانہ پریس ریلیز بھی جاری ہو گی۔مرغی چور، بھینس چور اور جن کو سزا نہیں ہوئی ان کے لیے بھی ایوان میں تقریریں کرنا شروع کر دیں۔وفاقی وزیر مواصلات کی تقریر پر شازیہ مری نے جوابی وار کرتے ہوئے نام لیے بغیر اعظم سواتی کو رگڑ کر رکھ دیا۔آئی جی کو نہیں ہٹانا چاہئے جب وہ ایک سینیٹر کے فارم ہاؤس میں گائے کو آنے سے روک نہ سکے۔ایک غریب کی بھینس کسی سینیٹر کے فارم پر چلی جاتی ہے تو راتوں رات آئی جی معطل ہو جاتا ہے۔یہ بھی اس ملک میں پہلی بار اسی حکومت کے دور میں ہوا ہے۔پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے پی ٹی آئی حکومت میں بحرانوں کے ذمہ دار وزراء کو فارغ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔شازیہ مری نے پی ٹی آئی حکومت کو وفاقی کابینہ پر نظر ڈورانے کا بھی مشورہ دیا۔پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل اور شازیہ مری نے وزراء کی وزارتیں اور ان کے کاروبار گنوا دیے۔شازیہ مری نے کہا کہ کابینہ میں وہ وزراء نہیں ہونے چاہیں جن کے وہ کاروبار ہیں جو ان کووزارتیں دی گئی ہیں۔ابھی وہ موصوف غائب ہیں جنہوں نے پیٹرولیم میں سارا گند کیا ہے جب 25روپے ایک رات میں قیمت کو بڑھایا گیا،یہ بھی ایک بجٹ کے دوران ہوا۔آپ نے مفادات کے ٹکراؤ کو تسلیم نہیں کیا اس لیے شوگر کا بحران آیا۔آپ کو اپنی کابینہ پر نظر دوڑانی چاہیے۔جو جو وزیر بحرانوں کا ذمہ دار ہے ان کو آج ہی فارغ کریں۔وفاقی وزیر عمر ایوب نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں وہ ہاتھی نما چوہے کدھر ہیں جنہوں نے گندم کے گوداموں کو چٹ کر دیا۔کوئی چوہا لاکھوں ٹن گندم چوری کر سکتا ہے؟ گندم بحران سندھ کے ہاتھی نما چوہوں کی وجہ سے آیا جن کے پیچھے سندھ گورنمنٹ تھی۔سندھ میں پاگل کتے انسانوں کو کاٹتے ہیں وہ ادویات کہاں پر چلی گئی ہیں؟پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ایک وزیر صاحب کھڑے ہوتے ہیں اور پرائیویٹ ممبر ڈے کے برعکس ایک تقریر فرماتے ہیں،۔مفادات کا ٹکراؤ وزارت لیول سے ختم ہونا چاہئے۔اگر مفادات کا ٹکراؤ منسٹری لیول سے ختم ہوتا تو رزاق داؤد کبھی بھی آپ کے مشیر نہ ہوتے۔کسی کو مشیر بنتے ہی مری کے ہوٹل کا ٹھیکہ مل جاتا ہے اس کو مفادات کا ٹکراؤ کہتے ہیں۔الزامات سب پر ہیں مگر کیسز صرف اپوزیشن پر بنے۔الزامات کی بنیاد پر کیس بنتے تو آدھی سے زائد کابینہ نیب زدہ ہوتی یا ہونی چاہئے تھی۔کیسز صرف اپوزیشن پر بنتے ہیں۔آئیں بائیں شائیں کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔آپ وہاں تک پہنچ چکے ہیں جہاں غریب کے پیٹ میں روٹی نہیں،کسان کے پاس یوریا نہیں۔اسٹیٹ بینک تک آپ بیچ چکے ہیں،پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے۔قرضوں میں 70سال کا تاریخی اضافہ آپ نے کر دیا ہے۔عمران خان رات کو بھیس بدل کر گلیوں میں گھومتے ہیں، تسلی کرتے ہیں کوئی پاکستانی کھانا تو کھا کر نہیں سویا ہے؟ پرائیویٹ ممبر ڈے پر اپوزیشن خاموش رہی جبکہ حکومتی اتحادی نے دو گھنٹے کے بعد خود ہی کورم کی نشاندہی کر کے اجلاس کی کاروائی ملتوی کروا دی۔