اسلام آباد(عمران مگھرانہ)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس رانا تنویر حسین کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔اجلاس کے آغاز میں اسلام آباد کے سہانے موسم کا تذکرہ رہا۔ چیئرمین پی اے سی رانا تنویر نے کہا کہ آج موسم بہت اچھا ہے امید ہے سب کا موڈ بھی خوشگوار ہوگا۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا شبلی فراز کو آج کمیٹی میں والد صاحب کا شعر سنانا چاہئے۔
چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ شبلی فراز کے والد عظیم انسان تھے انہوں نے شبلی فراز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی عظیم ہیں۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس کے دوران ارکان کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم سے سوالات کی بوچھاڑکر دی جس پر چیئرمین پی اے سی نے تفصیلی بریفنگ طلب کر لی۔پی اے سی اجلاس میں ایم ڈی سوئی نادرن علی جاوید ہمدانی نے اپنی تنخواہ بتانے سے گریز کیا۔جس پر چیئرمین پی اے سی نے سوئی کمپنیوں کے ایم ڈیز کی تنخواہوں کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
چیئرمین پی اے سی رانا تنویر نے سوال کیا کہ ایم ڈی صاحب آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟جس پر ایم ڈی سوئی ناردرن علی جاوید ہمدانی خاموش رہے۔چیئرمین پی اے سی رانا تنویر نے کہا کہ آپ شرما کیوں رہے ہیں بتا دیں کتنی تنخواہ ہے؟ ایم ڈی سوئی ناردرن نے کہا سر مجھے دیکھنا پڑے گا اکاؤنٹ میں تنخواہ آتی ہے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کیا مطلب آپ اتنے امیر ہیں کہ آپ کو تنخواہ ہی نہیں پتہ؟ کیا آپ تنخواہ نکلوا کے گھر نہیں لے جاتے؟
شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ پہلے جہاں کام کرتے تھے اس سے کم تنخواہ لے رہے ہیں۔ ایم ڈی سوئی ناردرن نے کہا کہ میں جہاں پہلے کام کرتا تھا میری تنخواہ وہاں سے کم ہے۔ جس کے بعد چیئرمین پی اے سی نے کہاتنخواہوں کی تفصیلات منگوائیں دیکھتے ہیں اتنا کام کر رہے ہیں یا نہیں؟ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ لوگ اوور بلنگ بھی دے رہے ہیں مگر پھر بھی گیس نہیں مل رہی ہے۔ لوگ ہمیں گالیاں نکال رہے ہیں۔ایم ڈی صاحب آپ کو اس لیے اتنی تنخواہ دی جا رہی ہے تاکہ آپ پرفارم کریں۔سیکرٹری صاحب سے آپ کی تنخواہ 20 گنا زیادہ ہو گی۔چیئرمین پی اے سی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے بنے ہوئے ہیں مگر کام نہیں کرتے ہیں۔ہم بھی پروفیشنل لائے تھے۔
ہم معین خان کو سی بی آر میں لائے تھے، میریٹ سے ان کا کھانا آتا تھا، کیا کر کے گئے ہیں؟ شبر زیدی کو لایا گیا وہ کیا کر کے گئے ہیں۔پٹرولیم ڈویژن کو 3 خط لکھنے کے باوجود جواب نہ ملنے پرچیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری صاحب نئے آئے ہیں۔کمیٹی وزارت کو خط لکھتی ہے آپ جواب تک نہیں دیتے۔پہلے یہ بتائیں کہ آپ کی منسٹری جواب کیوں نہیں دیتی؟ باقی وزارتیں ایک ہفتے میں جواب دیتی ہیں، پیٹرولیم والے جواب ہی نہیں دیتے۔
آپ کو معلوم ہے پی اے سی کیا ہے؟سیکرٹری پیٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ تینوں خطوط کے جواب آپ کو ایک ہفتے میں مل جائیں گے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ گیس کی قلت کی وجہ سے صنعتیں بند ہیں۔سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ توانائی کا شعبہ مشکلات کا شکار ہے، مشکلات کے باوجود صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔وصولیوں میں مشکلات کا سامنا ہے جس کی مختلف وجوہات ہیں۔ایم ڈی سوئی نادرن باصلاحیت آفیسر ہیں وہ بہتری لائیں گے۔گیس کمپنیوں کا گردشی قرضہ 1300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔