اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) 92 کی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں عوام کے لیے کوئی خیر نہیں ہوتی۔ایک بلین سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔صرف ریزرو بڑھ جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین ایک بلین ہوگا۔ہم نے قائد کے فرمان اور اصول کا سودا کر لیا۔
معاشی خود مختاری کا بھی سودا کر لیا۔ہمارا گورنر ویسٹ مینجمنٹ ڈائریکٹر کو (انڈین لیڈی) کو ڈائریکٹ رپورٹ کرے گا۔خیال رہے کہ آئی ایم ایف نے اعلامیہ جاری کیا کہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر فوری جاری ہوں گے، جبکہ مزید ایک ارب کے اجرا سے قرض پروگرام کی جاری رقم 3 ارب ڈالرہوگی۔ اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے کورونا سےمتاثرمعیشت کوسنبھالا ہے، پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھا جس کےباعث ڈالرمہنگا ہوا ہے۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ آرٹیکل فور کے تحت مذاکرات اختتام پذیر ہوچکے ہیں اور ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کو ایک ارب ڈالرز کی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے ، پاکستان کو 6 ارب ڈالرز قرض میں سے 3 ارب ڈالرز موصول ہوچکے ہیں۔ پاکستان نے معاشی اصلاحات کے لیے بروقت اقدامات کیے۔ آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو مہنگائی اور معاشی استحکام لانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے، مانیٹری پالیسی کے ذریعے کیے گئے اقدامات ضروری ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی خودمختاری مالیاتی استحکام لائے گی۔ پاکستان میں معاشی ترقی روزگارکے فروغ کا ذریعہ بنے گی۔ پاکستان میں سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنا بڑاچیلنج ہے اور توانائی کے گردشی قرض پرقابوپانا بھی ایک چیلنج ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان میں رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی بڑھنےکی شرح 10.2 فیصد ہے۔رواں سال مالیاتی خسارہ معیشت کا 6.9 فیصد ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کے لحاظ سے قرضوں کا بوجھ 86.7 فیصد ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ توانائی شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے ،گردشی قرضوں کے پلان سے پیداواری لاگت وصول ہوگی اور توانائی شعبے کی سبسڈیز کو بہتر کیا جا سکے گا۔