اسلام آباد(عمران مگھرانہ)سینیٹ کی کابینہ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں سینیٹ کابینہ کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پر سینیٹر کامل علی آغا پھٹ پڑے اور چیئرمین اوگرا کو کھری کھری سنا دیں۔
چیئرمین کمیٹی رانا مقبول احمد نے کہا کہ کل رات حکومت نے پٹرول 12 روپے فی لٹر مہنگا کر دیا۔حکومت نے سٹاک سے پٹرول بیچا اور اضافی رقم عوام سے لے رہی ہے۔جب 12روپے ادا ہی نہیں کیے گئے تو عوام سے کیوں وصول کیے جا رہے ہیں؟ جب مہنگا خریدیں تو مہنگا بیچ بھی لیں۔
رکن کمیٹی کامل علی آغا نے سوال اٹھایا کہ کیا پندرہ دن پہلے دیا گیا ریلیف بھی اس اضافے میں شامل ہے؟ کامل علی آغا نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دی گئی سبسڈی واپس نہیں لی جا سکتی ہے۔میں نہیں سمجھتا عمران خان جیسا بندہ ریلیف دینے کے بعد واپس لے گا۔
سینیٹر کامل علی آغا نے مزید کہا کہ گالیاں پڑ رہی ہیں، عوام ایسی باتیں کرتی ہے سن کر شرمندگی آتی ہے۔وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں بڑھتی قیمتوں کے باعث پٹرول مہنگا ہوا۔چیئرمین اوگرا نے کہا کہ تین ماہ پہلے خام تیل کی قیمت 65 ڈالر فی بیرل تھی، گزشتہ روز خام تیل 95 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
کمیٹی نے سبسڈی کے تحت عوام کو دیا گیا ریلیف واپس نہ لینے کی رولنگ دے دی۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ اتنا گندا گوشت پوری دنیا میں نہیں بکتا جو اسلام آباد میں بکتا ہے۔کامل علی آغا نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں مہنگا گوشت بکتا ہے،اسلام آباد میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں ہے۔