اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وصیت لکھ لی ، آج رات میں مارا جائوں گا ،بلوچستان کے 2قبیلوں کی ہولناک جنگ جو 600 زندگیاں نگل گئی ، یہ جنگ کس بات پر شروع ہوئی تھی ، ماہ رنگ بلوچ کون ؟ سردار یار محمد رند بلوچ کا ایکسکلوسِو انٹرویو ۔
سینئرصحافی و تجزیہ کار رئوف کلاسرا نے اپنے یوٹیوب چینل پر نئے وی لاگ میں رند بلوچ قبیلے کے سردار ، سردار یار محمد رند کا انٹرویو کیا جس میں انہوں نے بلوچستان کی اَن سنی سنسنی خیز کہانیاں سنائیں کہ کیسے ایک چھوٹی سی بات پر شروع ہونے والی لڑائی بلوچستان کے دو قبیلوں کو خون میں نہلا گئی اور چھ سو سے زائد افراد اس لڑائی کی بھینٹ چڑھ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔
یار محمد رند نے اس انٹرویو میں بلوچوں کی ان روایات کا بھی تذکرہ کیا ہے جن کے بارے میں شاید عام عوام نہیں جانتے ہونگے ۔ بدلہ لیے بغیر کوئی مرد گھر داخل ہو توگھر کی خواتین کا رد عمل کیا ہوتا ہے اور ایک بلوچ سردار کو سرداری قائم رکھنے کیلئے کیا کیا قربانیاں دینی پڑتی ہیں یا قربانیاں دینی پڑ سکتی ہیں یہ سب آپ اس انٹرویو میں جان سکیں گے ۔
رئوف کلاسرا کے سوال پر جنرل مشرف کے قریب سمجھے جانے والے یار محمد رند نے نواب اکبر بگٹی واقعہ کو بھی تاریخ کے تناظر میں دہراتے ہوئے کچھ ان سنے انکشافات کیے ۔
کچھ روز قبل اسلام آباد میں دھرنا دینے والے بلوچ اور ان کو لیڈ کرنے والی خاتون ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ در اصل کون ہیں ، اس انٹرویو میں اس راز سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے ۔
ویڈیو ملاحظہ کیجئے :





