اسلام آباد (مہر خان سے ) پاکستان میں خفیہ ایجنسی کی جانب سے شہریوں کی کالز کی ریکارڈنگ کا معاملہ ، خرم دستگیر کا موقف سامنے آگیا ۔ ایک نجی ٹی وی شو میں وفاقی کابینہ کی جانب سے آئی ایس آئی کو شہریوں کی کالز کی ریکارڈنگ کا اختیار دینے کے معاملے پر اٹھنے والے تحفظات کے حوالے سے سوال کیا گیا۔ خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب تک فون ٹیپنگ ان ریگولیٹڈ ہورہی تھی وہ اب قانون بن گیا تو یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ ایسا آج سے نہیں کئی سالوں سے ہو رہا ہے تاہم اب ہم اس چیز کو پردے سے نکال کر سامنے لے آئے ہیں ۔
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ایجنسیوں کے معاملات میں کوئی ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا کیوں کہ اس کے سیاسی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں تاہم یہ نوٹیفکیشن ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے اور پارلیمانی کمیٹیاں اب اس معاملے پر بحث کریں گی جس سے یہ معاملہ اب قیاس آرائیوں سے نکل کر عوامی فورم میں بحث کے لیے سامنے آئے گا جو شفافیت کی طرف ایک مثبت قدم ہے ۔
خرم دستگیر کا اس مسئلے پر پاکستان تحریک انصاف کے موقف کے حوالے سے کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے پہلے کہا تھا کہ ان کی تمام فون کالز ٹیپ کی جاتی ہیں اور انہیں اس پر کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم اب پی ٹی آئی اسی کال ریکارڈنگ کی اجازت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے جس سے ان کے موقف میں تضاد واضح ہو جاتا ہے ۔





