اسلام آباد (رافعہ زاہد سے ) آئی ایس آئی کو فون کالز ’انٹرسیپٹ‘ کرنے کی اجازت آئی ایس آئی کا عدلیہ پر طاقت کا رعب جمانے کا نیا طریقہ،تم جو مرضی کرلو ہمارے صرف ایک نوٹیفکیشن کی مار ہو ، بند کمروں میں اہم فیصلے ، سلمان اکرم راجہ نے بڑا راز کھول دیا۔ جیو کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر رہنماء پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کو فون ٹیپ کرنے کی اجازت دینے کا مقصد دراصل عدالتوں پر طاقت کا رعب جمانا ہے کہ تم جو مرضی کر لو ہمارے صرف ایک نوٹیفکیشن کی مار ہو۔ ہم نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے اب بھگتو۔سینئر رہنما پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ نے کہا ہم نے فون ٹیپنگ کے معاملے کو عدالت میں چیلنج کرنے عندیہ اس لیے دیا ہے کیونکہ صرف پی ٹی آئی ہی نہیں ہر ذی شعوراور اس معاشرے میں جس کسی کا بھی آزادی اظہار سے، انسانیت کی تکریم سے تعلق ہوگا وہ اس معاملے کو چیلنج کرے گا۔
سینئر رہنما پاکستان تحریک انصاف نے بیان دیا کہ یہ بہت عجیب بات ہے کہ آئی ایس آئی کا افسر جس کو نہ کسی قانون کی ضرورت نہ مجسٹریٹ کی ضرورت اور نہ ہی کوئی وجہ بتانے کی ضرورت وہ خود اپنے سے ہی فیصلہ کرے گا کہ میری اور آپ کو جو گفتگو ہے وہ قومی سلامتی کے حوالے سے حساس ہے اور اس لئے وہ اس کو سنے گا اور وہی یہ طے کرے گا کہ جو ہماری گفتگو ہے وہ قومی سلامتی کے حوالے سے حساس ہے یا نہیں۔انہوں نے پروگرام میں پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ کس کی گفتگو کو یہ پہلے سنتے رہے ہیں،اسی، پچاسی سالہ خواتین جو کسی کی اہلیہ یا ساس تھیں ان کی گفتگو کو ماضی میں سنا گیا۔
سملمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ تمام ٹیلی کام کمپنیز میں جو سسٹم نصب ہوا ہے کہ اداروں کی جانب آپ کی اور میری کالز ڈائیورٹ کی جاسکتی ہیں اور وہ اس گفتگو کو سن سکتے ہیں، جسٹس بابر ستار نے حکم دیا کہ اس سسٹم کو فوراً غیر فعال کیا جائے۔ اس فیصلے کے جواب میں یہ نوٹیفکیشن آیا۔ اصل اس نوٹیفکیشن کا سیاق و سباق یہ ہے کہ اگلے چند روز میں جب یہ مقدمہ عدالت میں آئے تو عدالت کو دکھایا جائے کہ ہمارے پاس قانونی جواز ہے ہم کال کو سن سکتے ہیں۔سینئر رہنما پاکستان تحریک انصاف نے مزید کہا کہ میری نظر میں اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔
میں 1996 کا قانون بہت اچھی طرح جانتا ہوں اس قانون میں ایسی کوئی طاقت نہیں ہے۔اس قسم کی طاقت فیئر ٹرائل بل ایکٹ 2013 میں موجود ہے۔ اس میں بھی مجسٹریٹ کے توسط سے ہے ، ایسا نہیں ہے کہ خودہی کوئی بھی ادارہ فیصلہ کرلے اور خودہی اپنے افسر کو کہے کے جاؤ یہ کام کرو۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یہ پورے آئین کی نفی ہے اور آئین میں ہمیں جو بھی بطور انسان حق حاصل ہے یہ اس کی نفی ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ ظاہر ہے عدالتوں میں بھی جائے گا اور میری نظر میں یہ نوٹیفکیشن کالعدم بھی قرار دیا جائے گا لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ عدالتوں پر طاقت کا رعب جمایا جا سکے کہ تم جو مرضی کر لو ہمارے صرف ایک نوٹیفکیشن کی مار ہو۔ ہم نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے اب بھگتو۔ اس کو چیلنج کرو۔





