اسلام آباد (احمد ارسلان سے ) سینئر اینکر پرسن منصور علی خان نے اپنے پروگرام میں عمران خان اور لیگی حکومت کے درمیان ان کی کارکردگی کا موازنہ کیا ۔منصور علی خان نے کہا کہ میرے شیر کی سلطنت میں ڈر اور خوف کی فضا قائم ہے ، جس کے ایک اشارے پر پوری سلطنت کا نظام ہل جاتا ہے ، اس سلطنت میں جو بھی اس کے خلاف کھڑا ہوگا اسے کڑی پابندیوں کا سامنا کرناپڑے گا ۔ سوشل میڈیا پر میرے شیر کے خلاف آوازیں اٹھیں تو اس نے سوشل میڈیا کا گلا گھونٹ دیا ، مخالف پارٹی نے ان کے خلاف بیان بازی کی تو اس پارٹی پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا گیا ۔ شیر کی سلطنت میں اگر منصفوں نے اس کے خلاف فیصلہ دیا تو اس نے فوراً بڑے منصف کی جانب دیکھنا شروع کر دیا ۔ اب سلطنت میں منصفوں کی تعداد بڑھانے کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ شیر کے لشکر نے بھی منصفوں کے خلاف کھل کر بولنا شروع کر دیا ہے۔ منصفوں کے فیصلوں کو ماننے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے ۔ میرے شیر کی سلطنت میں خوف کا تسلط قائم ہے ۔ کون، کب، کیا بولے گا، اس کا فیصلہ میرا شیر کرے گا ۔
تحریک عدم اعتماد سے قبل میرے کپتان کی حکومت قائم تھی ، شیر کے لشکر نے مہنگائی کو بنیاد بناکر مہنگائی مکائو مارچ کیا اور ملک کے ہر کونے میں یہ بات پھیلا دی گئی کہ اگر میرے کپتان کی حکومت کچھ عرصہ رہی تو سلطنت کا دیوالیہ نکل جائے گا ۔ جب ہر طرف ڈیفالٹ ، ڈیفالٹ کی صدائیں بلند ہوئیں تو میرے کپتان کی کشتی سے 2درجن کے قریب کھلاڑی اتر کر شیر کے لشکر میں شامل ہو گئے ۔ میرے کپتان کی حکومت ختم کرکے شیر نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔ میر اشیر جو مہنگائی مکائو مہم مارچ کرتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا تھا آج اگر اس کی 2سال کی حکومت کا جائزہ لیا جائے تومیرے کپتان کے خلاف شیر کے لشکر کے بیانیہ کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی ۔ سب سے پہلے بات مہنگائی کی ۔ اپریل 2022میں جب میرے کپتان کی حکومت ختم ہوئی تو مہنگائی کی شرح 12.1فیصد تھی ،آج میرے شیر کی سلطنت میں مہنگائی کی شرح ساڑھے 24فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔ تب ڈالر کی قدر 184روپے تھی ، آج ڈالر 280پر جا پہنچا ہے ۔ تب پٹرول کی قیمت 150روپے تھی،آج پٹرول کی قیمت 275روپے سے تجاوز کر چکی ہے ۔ تب ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت 144روپے تھی ، آج 284روپے ہو چکی ہے ۔ تب ایک کلو چکن کی قیمت 277روپے تھی ، آج 560روپے کلو تک جا پہنچی ہے ۔ عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں ملکی قرضوں کا حجم 49ہزار ارب تھا ، آج شیر کی سلطنت کے صرف 2سالوں کے دوران 67ہزار ارب سے زائدہے ۔ تب معاشی شرح نموچھ اعشاریہ دو فیصد تھی ، آج 2.4فیصد ہے ۔ تب فی کس آمدنی 1778ڈالر تھی ، آج فی کس آمدنی 1680ڈالر ہے ۔ تب فی کلو چینی کی قیمت 86روپے تھی ، آج 148روپے کلو ہے ۔ تب 20کلو آٹے کا تھیلا 1172کا تھا اور آج 1780روپے ہے ۔ عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تو بجلی کا کم سے کم یونٹ ساڑھے 9روپے اور زیادہ سے زیادہ 16.91روپے تھا ۔ آج میرے شیر کی سلطنت میں کم سے کم بجلی کا یونٹ ساڑھے 35روپے اور زیادہ سے زیادہ ساڑھے 49روپے تک جا پہنچا ہے ۔ دو سال پہلے میرے شیر کا مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ آج بھی نعرہ ہی ہے لیکن آج اس شیر کی سلطنت میں جو آواز اٹھائے گا وہ دھر لیا جائے گا ۔ میرے شیر کی سلطنت کے سب دستور نرالے ہیں لیکن کل کی کس خبر ، وقت بڑا بے رحم اور بے لگام ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ کل جب وقت بدلا ، حالات بدلے ، جذبات بدلے تو یہی شیر بھیگی بلی بن جائے گا ۔





