چین کے شہر ووہان سے پھوٹنے والی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لیپٹ میں لے رکھا ہے، مختلف ممالک کی حکومتیں کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور ہیں۔
جہاں ایک طرف اس بیماری سے ممالک کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے وہیں اسکول کالجز اور جامعات بند ہونے سے طلباء کی پڑھائی کا بھی بہت حرج ہو رہا ہے۔
ایسی سنگین صورتحال کا تدارک کرنے کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کی کئی جامعات نے ڈیجیٹل تعلیمی نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اب طلباء گھر بیٹھ کر آن لائن کلاسز کے تحت اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس وبائی مرض کے باعث دنیا میں ڈیجٹیل تعلیمی نظام کو ترویج حاصل ہو گی۔
اکنامک کاپریشن اینڈ دویلپمنٹ آرگنائزیشن کے مطابق 42 کروڑ دس لاکھ سے زائد بچے اس وبائی مرض کے باعث اسکول جانے سے قاصر ہیں۔
`وبائی مرض کے باعث چین کی سب سے بڑی جامعہ زیجیہانگ جن کے کیمپس سات شہروں میں قائم ہیں دنیا کا تعلیم کے حوالے سے سب بڑا ریمورٹ پروگرام ترتیب دے رہی ہے۔
چینی حکومت کے احکامات کے باعث 24 فروری سے جامعہ کی تمام کلاسز کو منسوخ کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود گریجیوٹ اور انڈر گریجیوٹ کے پانچ ہزار پروگرامز کی آن لائن کلاسز کا اہتمام کیا گیا ہے جس کے تحت پانچ لاکھ ستر ہزار طلباء مستفید ہو رہے ہیں۔
کورونا وائرس کے دوران ہمارے پھیپھڑوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
کیا گرمی کے موسم میں کورونا وائرس ختم ہوجائے گا؟
کورونا وائرس کا علاج کرنے والے برطانوی ڈاکٹر کی درد بھری داستان
جامعہ کی جانب سے توقع کی جا رہی ہے کہ 2500 سے زائد طلباء اگلے کچھ ماہ میں آن لائن اپنا تھیسس کا دفاع کریں گے۔
تعلیم کے میدان میں جدت لانے والے ماہرین گزشتہ کئی سالوں سے ڈیجیٹل تعلیمی نظام کے حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں تاہم اس کی سست روی کی وجہ سے پریشان بھی تھے۔
کچھ اساتذہ اور طلباء آن لائن تعلیمی نظام کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار تھے تاہم کورونا وائرس کی وباء کے باعث اس نظام کی موافقت میں تیزی آئی ہے۔
