• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, اپریل 21, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

ناروے میں ایک پاکستانی نژاد تاجر کے ایثار کی کہانی

by sohail
مارچ 23, 2020
in انتخاب, تازہ ترین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ناروے میں موجود ایک پاکستانی نوجوان وقاص میر نے اسپتال میں دس ہزار ڈسپوزایبل دستانے تقسیم کر دیے

وقاص میر اوسلو کے اہم تجارتی مرکز گرونلاد میں ‘طہور جنرل اسٹور’ کے جنرل منیجر اور مالک ہیں۔ 42 سالہ اسٹور مالک عموما غذائی مصنوعات، مختلف سویٹس فروخت کرتے ہیں لیکن کچھ آلودگی اور صحت سے متعلق حفاظتی سامان بھی ان کے پاس ہوتا ہے۔

‏اوسلو کے ایمرجنسی سنٹر (ناروے کا سب سے بڑا ایمرجنسی ہسپتال) کو تحفہ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ آلودگی اور انفیکشن سے بچاؤ کے سامان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے جس میں مدد کرنا بہت اچھا لگا۔

‏‏ انہوں نے پرجوش انداز میں این آر کے ( ناروے کی بڑی اور سرکاری براڈکاسٹنگ کارپوریشن) سے بات کرتے ہوئے کیا کہ میں نے داخلی طور پر عارضی دستانوں کے ساتھ ایک بڑی پارٹی رکھی تھی۔ صحت کے پیشہ سے منسلک افراد کو اب کسی اور چیز سے زیادہ ان کی ضرورت ہے۔ میرے لئے یہ اہم ہے کہ میں صفائی اور تدابیر کا حصہ بن رہا ہوں۔

‏نارویجین پاکستانی نے اپنی اس سوچ اور عمل کےبارے میں دوسروں کو بھی شامل کرنا مناسب سمجھا، اور ہفتے کی صبح فیس بک پر ایک امدادی گروپ "Oslo Helps Oslo” پر ایک پیغام شائع کیا کہ اس نے ضرورت مندوں کو 10 ہزار عارضی دستانے فراہم کرنے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ یہ ڈسپوز ایبل دستانے صحت سے متلعق وسیع پیمانے پر استعمال ہورہے ہیں اور حالیہ حالات میں ان افراد کے تجویز کردہ ہیں جو افراد خون، جسمانی رطوبت اور انفیکشن کے معاملات سے وابستہ یا رابطہ میں رہتے ہیں۔

ان کی پوسٹ کے دس منٹ بعد چالیس ہزار ارکان پر مشتمل اس گروپ میں شامل ایک رضاکار کا پیغام موصول ہوا۔ 23 سالہ زین شاہ نے کہا کہ وہ یہ تحفہ آگے دینے کے لیے تیار ہیں۔

‏میر کا کہنا تھا کہ انہیں اسٹور چھوڑنے کا موقع نہیں ملا ، زین نے ڈسپوزایبل دستانوں کے ڈبے اٹھانے اور آگے فراہم کرنے کی پیش کش کر دی۔

‏زین شاہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میر سے دستانے وصول کرکے اوسلو سینڑرم میں واقع ایمرجنسی سنٹر چلا گیا اور عملے کے حوالے کر دیے۔

‏ان کا کہنا تھا کہ میں نے سنا تھا ایمرجنسی سنٹر میں حفاظتی سازوسامان کی ضرورت ہے، اسپتال کا عملہ تحفہ کے لیے بہت خوش اور شکر گزار تھا۔

این آر کے سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ نوجوان کا کہنا ہے کہ اب میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل ہونے کی وجہ سے بہت اچھا محسوس کررہا ہوں۔

‏ اوسلو کے جنرل گارڈ ڈیپارٹمنٹ کی نرس Ingvild Eggereide کا کہنا تھا کہ اس کی ایک کولیگ نے یہ تحفہ وصول کیا تھا۔ اس نے دکان کے مالک کو خراج تحسین پیش کیا اور اس پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

‏بشکریہ  NRK  

Tags: کورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post

وزیراعظم کا عظیم قوم پر اعتماد اور مرغوں کا دنگل

کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے والے قومی ہیروز کی واپسی کی کہانی

سعودی عرب میں آج سے کرفیو کا اعلان

کورونا وائرس کی شکار برطانیہ کی پاکستانی نژاد نرس اریمہ نسرین کی کہانی

کورونا وبا : جاپان کے شہریوں کا حکومتی احکامات ماننے سے انکار

کورونا وبا : جاپان کے شہریوں کا حکومتی احکامات ماننے سے انکار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In