ریاض: سعودی حکومت نے آج سے ملک بھر میں کرفیو کے نفاذ کا حکم جاری کردیا ہے۔
عرب خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے اتوار کے روز ایک شاہی فرمان جاری کیا جس میں پیر 23 مارچ کی شام سے ملک بھر میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا۔
شاہی فرمان کے مطابق کرفیو 21 روز کے لیے نافذ کیا گیا ہے جس پر عملدرآمد 23 مارچ کی شام 7 بجے سے شروع ہوگا جو صبح 6 بجے تک جاری رہے گا۔
شاہی حکم کے تحت مسجد الحرام، مسجد نبویؐ میں جمعہ اور پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔
کورونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات کرتے ہوئے مطاف خالی کرا لیا گیا ہے اور سعودی حکومت نے اپنے شہریوں کی عمرہ ادائیگی پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
بھارت میںجنتا کرفیو کامیاب، لاک ڈاؤن 75 شہروں تک پھیلا دیا گیا
کورونا وائرس: اٹلی میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کیلئے فوج طلب
عرب میڈیا کے مطابق سعودی فرماں روا کی جانب سے کرفیو کا اعلان وزارت صحت کی طرف سے کورونا کے کیسز 500 سے تجاوز کرنے کی اطلاع دینے کے بعد کیا گیا، سعودی عرب کی وزارت صحت نے اب تک ملک میں وائرس کے 511 کیسز کی تصدیق کی ہے۔
شاہی فرمان میں کرفیو کے دوران شہریوں کو اپنی حفاظت کے لیے گھروں میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے، کرفیو کے نفاذ کے سلسلے میں سعودی وزارت داخلہ کو ضرورتی اقدامات لینے کی ہدایت کی گئی جبکہ سول اور فوجی حکام کو مکمل تعاون کا حکم دیا گیا ہے۔
سعودی وزارت داخلہ نے سرکاری ملازمین اور اہم شعبوں سے وابستہ افراد کو کرفیو سے مستثنیٰ قرار دیا ہے جب کہ بیکریز، سپر مارکیٹس، گوشت، سبزی اور لیبارٹریز بھی کھلی رہیں گی۔
اس کے علاوہ میڈیکل اسٹورز، کلینکس، اسپتال اور دوا ساز کمپنیاں بھی کرفیو سے مستثنیٰ ہوں گی۔
