اگر ہم کورونا وائرس کے شکار ملک اٹلی کی مثال کو دیکھیں تو ہمیں یہ اندازہ ہوگا کہ ہمارے وزیراعظم عمران خان بھی اسی راستہ پر گامزن ہیں جو اٹلی کے وزیراعظم نے اختیار کیا تھا جس کے نتیجے میں ان کا ملک کورونا وائرس اموات میں سب ممالک کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔
کورونا وائرس کی وبا کے شروع کے دنوں میں اٹلی حکام کے بیانات بھی وہی تھے تو جو آجکل ہماری حکومت کے ہیں۔ ان سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے اسے مذاق سمجھا اور معمولات زندگی جاری رکھے جبکہ اس دوران یہ وبا تیزی سے پھیلتی رہی۔
اگرچہ اٹلی کی جانب سے کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے اب مشکل ترین فیصلے کئے جا رہے ہیں مگر ابتدا میں جب وائرس نے پنجے گاڑنے شروع کئے تو اٹلی کے حکام نے بنیادی شہری آزادیوں اور معیشت بچانے کیلئے انہی مشکل فیصلوں کو جھٹلا دیا تھا۔
ان کا رویہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے ہمارے وزیراعظم کا ہے جن کا کہنا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن ہوتا ہے تو دیہاڑی والے مزدور گھروں میں بند ہو جائیں گے۔
اٹلی میں گزشتہ روز کورونا وائرس نے 651 زندگیاں نگلیں تو وہاں مرنے والے افراد کی تعد اد ساڑھے پانچ ہزار تک پہنچ گئی۔ اب تک کورونا وائرس سے ہونیوالی اموات میں اٹلی نے چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اب جب کہ اٹلی کے ہزاروں شہری زندگی گنوا بیٹھے ہیں، وہاں کے وزیراعظم نے کورونا وائرس کو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے مشکل بحران قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک اس پر قابو پانے کیلئے اپنی فیکٹریاں بند کر دے گا۔
یہ اٹلی کی جانب سے وبا پر قابو پانے کیلئے بہت بڑی معاشی قربانی ہے، اسکے علاوہ اٹلی میں لاک ڈاؤن نفاذ پر عمل درآمد کرانے کیلئے فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
اٹلی کے تجربہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کو شروعات میں ہی میں الگ تھلگ کر دینا چاہئے، ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل حرکت کو بھی محدود کر نا چاہئے اور سب سے آخر میں ان فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد لازم ہے۔
اٹلی کی پہلے قصبوں، پھر دیگر علاقوں اور آخرکار ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کی کاوشیں مہلک کورنا وائرس کی رفتار کے آگے ماند پڑ گئیں۔ اس وبا کی رفتار اٹلی حکام کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تھی۔
وہ ممالک جو کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے اٹلی کی بتدریج لاک ڈاؤن کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں، وہ دراصل اس ملک کی غلطیوں کو دہرا کر ویسی ہی مصیبت مول لے رہے ہیں۔
اٹلی میں وبا کے ابتدائی نازک لمحوں میں اٹلی کے اعلیٰ حکام نے اس کا خطرہ کم ظاہر کر کے لوگوں میں کنفیوژن پھیلایا اور انہیں تحفظ کا جعلی احساس دلایا، اس سے کورونا وائرس کو تیزی سے پھیلنے کا موقع ملا۔
جب اٹلی نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ملک بھر میں لاک ڈاؤن کو ضروری سمجھا تب بھی حکومت اپنے لوگوں کو قوانین پر عمل درآمد کرانے پر قائل کرنے میں ناکام رہی۔
اٹلی کی وزارت صحت کے انڈرسیکرٹری ساندرازامپا کا کہنا ہے کہ ہم نے چین کی مثال کو عملی وارننگ کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے چین میں چلنے والی ایک سائنس فکشن فلم سمجھا جس کا ان کے ملک سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
زامپا کا مزید کہنا تھا کہ جب کورونا وائرس یورپ میں پھیلا تو انہوں نے بھی اٹلی کے حالات کو اسی نظر سے دیکھا جیسے اٹلی نے چین کو دیکھا تھا اور اس سے کچھ نہیں سیکھا۔
جب اٹلی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ لومباردی میں کورونا وائرس کے کیسز آنا شروع ہوئے تو وزیراعظم نے کہا کہ مریضوں کی تعداد زیادہ ٹیسٹ کرانے کی وجہ سے بڑھی ہوئی ہے۔
جب ملک بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں ہونے لگیں تو وزیراعظم نے وائرس زدہ علاقوں، لومباردی اور وینیتو، پر الزامات لگانا شروع کر دیے۔
انہوں نے کہا کہ وائرس سے متاثرہ یہ علاقے بغیر علامات لوگوں کے ٹیسٹ کر کے وبا کی شدت کو بڑھا رہے ہیں، یہ ویسے ہی تھا جیسے پاکستان میں وفاق، سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں باہمی الزام تراشی میں لگی ہوئی ہیں۔
جب اٹلی میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 309 ہوگئی اور گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تب بھی 25 فروری کو وزیراعظم نے کہا کہ اٹلی ایک محفوظ ملک ہے۔
اس دوران لومباردی کے صدر اتیلیو فونتانا مرکزی حکومت سے کورونا وائرس کے مقابلہ کیلئے سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے، ان کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات کو اسلئے نہیں مانا گیا کیونکہ مرکزی حکومت ہماری معیشت کو بچانا چاہتی تھی۔
8 مارچ کو جب کورونا وائرس ملک بھر میں 366 افراد کی جان لے چکا تھا تب جا کر رات دو بجے اٹلی کے وزیراعظم نے قوم کو بتایا کہ ہمیں قومی ایمرجنسی کا سامنا ہے مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔
