تین بچوں کی ماں اریمہ نسرین اس وقت کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد برطانیہ کی ’ولسل مائنراسپتال ‘ کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
36 سالہ اریمہ نسرین، جس نے 16 سال قبل اپنی زندگی کو دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کیا تھا، آج خود اپنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
وہ گزشتہ 16 سالوں سے ولسل اہسپتال میں اسٹاف نرس کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ صحت مند اور فرض شناس اریمہ کو 10 روزقبل جسم میں درد کی علامات ظاہر ہوئیں جس کے بعد بخار اور کھانسی شروع ہوئی۔
ان کے کورونا کے ٹیسٹ لیے گئے جن کا ریزلٹ دو دن قبل آیا اور یہ معلوم ہوا کہ وہ اس وبا کا شکار ہو گئی ہیں۔ ان کی بہن کاظمہ کا کہنا ہے کہ اس کا خاندان دل شکستہ ہے مگر انہوں نے اسپتال عملہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب اریمہ کی بہت زیادہ دیکھ بھال کررہے ہیں۔
نرسنگ شعبہ میں کام کرنا اریمہ کا ہمیشہ سے خواب رہا تھا اور وہ مسلم کمیونٹی کو بطور خاص اس شعبے کا حصہ بننے کے لیے حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔
کورونا وائرس کا علاج کرنے والے برطانوی ڈاکٹر کی درد بھری داستان
کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے والے قومی ہیروز کی واپسی کی کہانی
کورونا وائرس عالمی سطح پر کیا تبدیلیاںلائے گا؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں
جس دن وہ خود نرس بنیں، انہوں نے تقریب سے ان الفاظ میں خطاب کیا ’’میں سمجھتی ہوں کہ میں دوسروں کو اس شعبہ میں لانے کے لیے متاثرکرسکتی ہوں ، میں ہر صبح اس خوشی میں روتی ہوں کہ آخر کار میرا نرس بننے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا ہے‘‘۔
اریمہ کہتی ہیں کہ جب وہ جوان تھیں تو ان کی نانی امان سٹروک کے باعث بیمار تھیں اور وہ ان کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں، اسی وقت سے وہ نرسنگ کے شعبہ کو اپنانے کے خواب دیکھتی تھیں۔
ان کی خواہش تھی کہ نرس بن کر وہ دوسروں کی خدمت کریں، وہ ایسے لوگوں کا خصوصی خیال رکھنا چاہتی تھیں جو بوڑھے ہوں اور مشکل کی زندگی گزار رہے ہوں۔
اریمہ کہتی ہیں ’مجھے برطانیہ سے پاکستان لے جایا گیا اور 17سال کی عمر میں شادی کر دی گئی، جہاں میری شادی ہوئی وہ لوگ کہتے تھے کہ مزید تعلیم یا کیریئر کا سوچنے کے بجائے اپنی شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے پر توجہ دو، اس وقت مجھے لگا جیسے میرا نرس بننے کا خواب مجھ سے بہت دور چلا گیا ہے‘‘ ۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’’2003ء میں میں نے ولسل مائنر اسپتال میں ہاؤس کیپنگ کی ملازمت حاصل کر لی، اس وقت انٹرویو لینے والا اسٹا ف بہت مہربان تھا جس نے میرے خواب تک پہنچنے کے لیے مجھے سہارا دیا”۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کولیگز کو اپنے خواب کا بتاتی تھیں اور وہ اس کے حصول کے لیے حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے، پھر ایک دن ایسا آیا کہ انہوں نے ہاؤس کیپنگ کی ملازمت چھوڑ دی اور ہیلتھ کیئر اسسٹنٹ بن گئیں۔
اریمہ کا کہنا ہے کہ ’’اس دوران میں 3 بچوں کی پرورش کرتی رہی، میرے خاوند نے اس سلسلے میں بھرپور ساتھ دیا اور 4 برس قبل میں نے نرس بننے کے خواب کی تعبیر پانے کے لیے تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی ‘‘
انہوں نے بہت خوشی سے بتایا کہ گزشتہ سال جنوری کا وہ دن بھی طلوع ہوا جب انہوں نے ولسل مائنر اسپتال کے میڈیکل یونٹ میں نرس بننے کے لیے کوالیفائی کرلیا۔
اریمہ بتاتی ہیں کہ انہیں نرس کے کردار سے انتہائی محبت ہے، وہ ایسے مواقع کو یاد رکھنا چاہتی ہیں جب انہوں نے ایسے مریضوں کے ساتھ وقت گزارا جن کا کوئی خاندان نہیں تھا اور وہ زندگی کے اختتام کی جانب رواں تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ میں نے ان مریضوں کے آخری لمحات میں ہاتھ تھاما اور یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے، مجھے یہ سوچ کر خوشی ہوتی تھی کہ ضرورت کے وقت کوئی تو ان کے پاس ہے‘‘۔
اریمہ کہتی ہیں کہ ’’ میں سوچنا چاہتی ہوں کہ میں اب دوسروں کو متاثر کر سکتی ہوں، خاص طور پر مسلم کمیونٹی کو، میرے اپنے خاندان کے افراد کی سوچ مجھے دیکھ کر اب تبدیل ہوچکی ہے کیوں کہ میں یونیورسٹی جانے والی خاندان کی پہلی لڑکی ہوں، اب باقی خاندان کی لڑکیوں کو بھی اپنے خوابوں کو پانے کے لیے حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جو میرے لیے یقینا حیرت انگیز ہے‘‘ ۔
برمنگھم لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے اریمہ کی بہن کاظمہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سب کورونا وائرس کو سنجیدگی سے لیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’میری بہن بہت باکمال نرس ہیں جنہوں نے فرنٹ لائن پر اپنی ڈیوٹی دی اور کئی لوگوں کو مدد کی، اب خود کورونا وائرس کا شکار ہو کر شدید بیمار ہیں، وہ اسپتال کے انتہائی نگہداشت میں وینٹی لیٹر پر ہیں اور اپنی زندگی کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں ‘‘۔
کاظمہ کہتی ہیں کہ وہ سب کو بتانا چاہتی ہیں کہ کورونا وائرس کس قدر خطرناک ہے کہ میری بہن صرف 36سال کی ہیں اور بالکل صحت مند ہونے کے باوجود اس کا شکار ہو گئیں۔
کاظمہ نے کہا کہ لوگ اس وبا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، یہ صرف ان بزرگوں کے لیے نہیں جو زیادہ خطرے میں ہیں بلکہ سب کے لیے خطرناک وبا ہے‘‘ ۔

یہ واقعہ سبق آموز ہے اور میری دعا ہے کہ وہ اس نرس کو صحت و تندرستی عطا فرمائے اور اس کا سایہ اس کے بچوں پر قائم رکھے، آمین
انسان زندگی میں جو بھی کرنا چاہے اگر اس میں لگن ہو تو ہمت الللہ تعالی’ اس کے اندر ڈال دیتا ہے اور پھر کامیابی اس کے قدم چوم لیتی ہے، میں اس نرس کی عظمت کو سلام کرتا ہوں