کورونا وائرس نے سب سے پہلے چینی قوم کو اپنا شکار کیا لیکن عوام اور حکومت نے مل کر اس عفریت کے خلاف ایک بڑی لڑائی لڑی اور اسے شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔
اس جنگ میں جس طبقے نے ہراول دستے کا کام کیا، وہ چین کے ڈاکٹرز اور نرسز تھیں جنہوں نے اپنے آرام اور خاندان کی پرواہ کیے بغیر دن رات جدوجہد کی، اور قوم کے ہیرو بن گئے۔

اس وقت دنیا کے کئی ممالک اور شہر لاک ڈاؤن کی طرف جا رہے ہیں اور پوری دنیا میں خوف و دہشت کی فضا پھیل چکی ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق اب تک دنیا بھر میں 3 لاکھ 12 ہزار سے زائد لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہیں جن میں سے 93 ہزار 790 افراد صحت یاب جبکہ 13 ہزار 407 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
چین میں اب تک متاثرہ افراد کی تعداد 81 ہزار 416 ہو گئی ہے، ان میں سے 3 ہزار 261 موت کا شکار ہوئے جبکہ 70 ہزار سے زائد لوگ صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔
ایسے وقت میں اپنے شہریوں کی مدد کیلئے چین کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے 40 ہزار سے زائد ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کورونا وائرس کے خلاف فتح سمیٹتے ہوئے ووہان شہر سے واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔

37 سو ڈاکٹرز اور نرسز پر مشتمل پہلے بیج کی واپسی کا منظر ہمت اور حوصلے کی داستان تھا اور اس بات کی عکاسی کرتا تھا کہ مشکلیں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اتحاد، عزم اور یکجہتی سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر واپس جانے والے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف سے ان کے تاثرات جاننا چاہے تو انھوں نے بتایا کہ وہ 10 گھنٹوں سے بھی زائد کام کرتے تھے جو کہ ایک تھکا دینے والا عمل تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گھر واپسی پر وہ بہت خوش ہیں لیکن انھیں اس شہر کی بھی بہت یاد آئے گی۔ ان ڈاکٹروں اور نرسز میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے شیر خوار بچوں کو پیچھے گھروں میں چھوڑ آئے تھے۔

بس میں بیٹھی ایک ڈاکٹر موبائل پر اپنی بیٹی کی ویڈیو دیکھتے ہوئے خوشی سے بے حال ہو رہی تھی، اس نے بتایا کہ وہ اپنی 2 سالہ بیٹی کو اس کی دادی کے پاس چھوڑ آئی ہیں، ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
ان قومی ہیروز کی گھر واپسی کا منظر قابلِ دید تھا۔ عوام اور پولیس نے ان کو ہیرو کی طرح الوداع کیا۔ سٹریٹس ٹائم کے مطابق اگرچہ چین نے اندرون ملک کورونا پر قابو پا لیا ہے تاہم ملک میں 46 نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں جو کہ بیرون ملک سے آنے والے چینی باشندے ہیں۔

