اسلام آباد (مہر خان سے ) سینئر تجزیہ کار فہد حسین نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے کورٹ مارشل کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے ردعمل کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ فہد حسین کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز سے حکومت اور پی ٹی آئی کے بیانات کا موازنہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت فیض حمید کے کورٹ مارشل کے حوالے سے مطمئن نظر آتی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ ردعمل زیادہ حیران کن نہیں ہے، کیونکہ پی ایم ایل (ن) پہلے سے ہی فیض حمید کو اپنے سیاسی نقصان کا ذمہ دار قرار دیتی رہی ہے۔
فہد حسین نے نشاندہی کی کہ پی ٹی آئی کا ردعمل زیادہ محتاط اور دوری اختیار کرنے والا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے وکلاء اور رہنماؤں نے یہ بات واضح کی ہے کہ فیض حمید کا معاملہ آرمی کا اندرونی مسئلہ ہے اور پی ٹی آئی نے فوری طور پر خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا ہے۔ فہد حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی کا یہ محتاط رویہ ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی اب اس وقت فیض حمید کے ساتھ اپنا تعلق جوڑنے سے گریز کر رہی ہے۔
فہد حسین نے مزید کہا کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ آگے بڑھے گا۔ اگر فیض حمید کا کورٹ مارشل ہوتا ہے تو سوال یہ ہوگا کہ کیا پی ٹی آئی اس معاملے میں ملوث ہوگی؟
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر پی ٹی آئی اور فیض حمید کے درمیان تعلق ثابت ہوتا ہے تو آنے والے وقت میں پی ٹی آئی کو بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
فہد حسین نے کہا کہ یہ معاملہ نہ صرف فیض حمید بلکہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اور فوج کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جو بھی ثبوت سامنے لائے جائیں، وہ قابلِ اعتبار اور مضبوط ہوں تاکہ لوگوں کو یقین ہو کہ یہ محض سیاسی انتقام نہیں ہے۔
ان کے تجزیے کے مطابق، پی ٹی آئی کو اس معاملے میں اپنی پوزیشن مزید واضح کرنی ہوگی، ورنہ مستقبل میں پارٹی کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔




