اسلام آباد (رافعہ زاہد سے ) مختلف ایونٹس میں پانچ گولڈ میڈلز جیتے۔۔۔تمام میں نیا ریکارڈ بنایا۔۔میرے پاس اگر 15 سے 20 جیولن ہوں تو نوجوانوں کو بھی ٹریننگ دوں گا ۔۔۔ارشد ندیم نے گاؤں میں اپنی زمین پر اکیڈمی بنانے کی خواہش ظاہر کردی۔۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں پیرس اولمپکس کے چیمپئن ارشد ندیم نے بیان دیا کہ ٹوکیو اولمپکس کے بعد ملک چھوڑنے کی آفر ہوئی تھی اور میں نے پاکستان چُھوڑنے کی پیش کش مسترد کر دی تھی۔ مجھے والدین اور پورے پاکستان کی دعاؤں سے کامیابی ملی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے یوتھ فیسٹیول 2012 من پہلا ایونٹ کھیلا تھا اور کوچ فیاض حسین بخاری نے میری زبردستی ٹریننگ کروائی ہے۔مزید انہوں نے بتایا کہ کامن ویلتھ گیمز کا ریکارڈ میں توڑ چُکا ہوں۔
ارشد ندیم نے بتایا کہ میں نے اب تک میں نے پانچ گولڈ میڈلز جیتے ہیں اور مختلف ایونٹس میں پانچ گولڈ میڈلز جیتے، تمام ایونٹس میں نیا ر کارڈ بنایا ہے۔پروگرام میں انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً دو ماہ بعد دوبارہ ٹریننگ کا آغاز کروں گا۔ورلڈ ریکارڈ 98 میٹرز سے زیادہ کا ہے،دنیا بھر کے کوچز کا خیال ہے کہ میں اسے بریک کر سکتا ہوں۔
میرے پاس اگر 15 سے 20 جوالین ہوں تو نوجوانوں کو بھی ٹریننگ دوں گا اور میں گاؤں میں اپنی زمین پر اکیڈمی بنانا چاہتا ہوں۔ مریم نواز کے گھر آنے پر بے حد خوشی ہوئی تھی اور اپنی گاڑی کی نمبر پلیٹ 92.97 دیکھ کر بھی بڑی خوشی ہوئی تھی۔میں سجدے میں چلا گیا تھا جب میں نے اولمپکس ریکارڈ توڑا۔
پروگرام کے میزبان حامد میر نے ارشد ندیم کی والدہ سے سوال کیا کہ کبھی آپ نیرج چوپڑا کو گھر بلائیں گے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا جی موقع ملے تو ضرور بلائیں گے۔
کھلاڑیوں کے لیے سرکاری ملازمت کی اہمیت پر ارشد ندیم کا کہنا تھا کہ میں دوسرے کھلاڑیوں سے یہی سنتا ہوں کہ ہمیں نوکری مل جائے اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے جیسے کسی بندے کو سہارا مل گیا ہو، نوکری سپورٹ مین کے لیے سہارا ہے۔جب سپورٹ مین کو نوکری ملتی ہے تو وہ محنت کرتا ہے اور اس کے اخراجات بھی تنخواہ سے پورے ہوجاتے ہیں۔ میری حکومت سے درخواست ہے ہمارے جتنے بھی ڈیپارٹمنٹل کھلاڑی ہیں ان کو مستقل کر دیا جائے۔ نوجوانوں کے لیے پیغام ہے کہ مشکلات سے گھبرائیں مت ، میری اپنی زندگی بہت دشوار رہی مگر اچھے کوچز کی تربیت اور خود میں لگن ہو تو پاکستان میں رہ کر بھی آپ کامیابیوں کا آسمان چھو سکتے ہیں ۔




