اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماءجاوید لطیف کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس اکثریت نہیں ،تیز ہوا کا جھونکا آجائے تو حکومت گر جائیگی،آج سے 2سال پہلے کہتا تھا کہ سہولت کاری موجود ہے ،میری جماعت کے کچھ لوگ کہتے تھے کہ ہمیں سہولت کاری نظر نہیں آرہی ،اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماءمسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ اس وقت سب کو نظر آرہا تھا کہ سہولت کاری ہے۔
وہ الگ بات ہے کہ کسی کی دوستی تھی یا پھر کوئی مفاد تھا۔ آج میں بھی کہتا ہوں یہ جماعت کے سینئر لوگ کیوں ملا کرتے تھے۔اب ان کو وضاحت دینی ہوگی ۔ آج سہولت کاری دینے والے بے نقاب ہو رہے ہیں ۔ 2017کا فیصلہ کے نتائج ہم آج بھی بھگت رہے ہیں ۔کیا فیصلے ایسے آئیں گے کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر اقتدار سے نکال دیا جائے اور 62`63کا سرٹیفکیٹ اس شخص کوتھمادیا جائے جو صادق و امین نہیں تھا لیکن اس وقت ضرورت تھی تو اسے سرٹیفکیٹ دیدیا گیا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی مسلم لیگ ن کے رہنماءجاوید لطیف کہہ چکے ہیں کہ ہماری حکومت نہیں ہے بلکہ ان کی ہے جنہوں نے ارینجمنٹ کی ہے۔پارٹی کو بچانا چاہتے ہیں تو کسی طور پر بھی ریاست بچ نہیں سکے گی۔ ریاست کو بچا لیا گیا تو جماعت بھی بچ جائے گی اور سیاست بھی ہوگی۔ بدقسمتی سے جماعت بھی اور ریاست بھی خطرے میں ہے۔اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت ایک ارینجمنٹ کے تحت دی گئی اور ہم نے اپنی گردن پیش کی ہے۔
نواز شریف خاموش ہیں جبکہ قیدی نمبر 804 کے گرد سیاست ہو رہی ہے۔ ایسا نہیں چلے گا، جس کو جو سہولت کاری دی گئی اس کی حقیقت بیان کرنا پڑے گی۔ جو دوسری جماعت کو سہولت کاری دی جا رہی ہے اس کا بھی اعتراف کرنا ہوگا۔ دنیا کے ذرائع ابلاغ ہمیں چور اور ڈاکو اسی طرح کہہ رہے ہیں جیسا پہلے کہتے تھے۔ پک اینڈ چوز نہیں ہونا چاہیے بلکہ میرٹ کی بنیاد پر تمام کیسز کا فیصلہ ہونا چاہیے۔
ٹریبونلز میں ہمارے کیسز 5، 5 سال موجود رہے اور اب روزانہ سماعت ہوتی ہے۔ کیا ہمیں سادہ اکثریت دی گئی ہے بالکل بھی نہیں، الیکشن میں جس طرح پک اینڈ چوز ہوا تمیز ہی ختم ہوگئی تھی کہ کون آگے ہے، اس الیکشن میں کیا پی ٹی آئی کو سہولت کاری نہیں تھی؟ فارم 45، 47 جس طرح تبدیل ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کس طرح تباہی ہوئی۔





