2019ء میں دنیا کے دس بہترین رہائش کے قابل شہروں کی رینکنگ میں آسٹریا کے شہر ویانا اور سوئٹزر لینڈ کے شہر زیورخ کے بعد کینیڈا کے شہر وینکور کا نمبر آتا ہے، پاکستانی نژاد شہری متین قریشی اسی شہر میں رئیل اسٹیٹ بزنس سے وابستہ ہیں۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی سنگینی کے وقت وہ پاکستان میں موجود تھے مگر جب وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کورونا وائرس کے باعث سرحدیں بند کرنے کا اعلان کیا تو انہیں ایمرجنسی میں واپس جانا پڑا۔ انہوں نے کینیڈین حکومت کے اقدامات اور وہاں کے حالات کا آنکھوں دیکھا حال ’نقار خانہ ‘سے گفتگو میں بتایا ہے۔
متین قریشی بتاتے ہیں کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے اس وقت کینیڈا کے شہر وینکور میں حالات انتہائی سنگین ہیں، شہریوں کو اس بات کا ہرگز انداہ نہیں تھا کہ یہ وبا اسقدر پھیل جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت کھانے پینے کی اشیاء اسٹورز میں ختم ہوچکی ہیں اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے متاثرہ افراد سے بھر چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کاروبار زندگی تقریباً رک چکا ہے اور لوگ گھروں میں بند ہیں جبکہ سڑکوں پر کرفیو کا سماں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈین حکومت اپنی حد تک اس وباء سے لڑنے کیلئے بھرپور کوششیں کررہی ہے لیکن وہ اکیلے شاید اس حوالے سے کچھ بھی نہ کرسکے۔
متین قریشی نے بتایا کہ اس ساری صورتحال میں شہریوں کو انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو گھروں تک محدود کرنا ہوگا، اس کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں۔
انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ برٹش کولمبیا وینکور میں اس وائرس کے باعث اب تک 10 ہلاکتیں ہوچکی ہیں، چھوٹے پیمانے پر کاروبار بند ہونے سے لاکھوں افراد بیروزگار ہوچکے ہیں، اب تک 6لاکھ افراد بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹروڈو حکومت نے عوام کیلئے ریلیف پیکیج کا تو اعلان کیا ہے لیکن ابھی تک عملاً کچھ نظر نہیں آرہا ۔
متین قریشی نے پاکستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک اور یہاں کے پڑھے لکھے لوگوں نے اتنی حساس صورتحال کا احساس نہیں کیا اور میل جول جاری رکھا جس کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت اس بحران پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے اس لیے بہتر ہے کہ یہ غلطی پاکستان میں نہ دہرائی جائے۔
انہوں نے پاکستانی شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں، رش کے مقامات پر ہرگز مت جائیں، اپنے ہاتھوں کو دھوئیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
متین قریشی کا کہنا تھا کہ اگر ترقی یافتہ ملک کا نظام اس وباء کو قابو کرنے میں مشکلات کا شکار ہے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس غلطی سے خدا نخواستہ کوئی بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے۔
آخر میں انہوں نے اپیل کی کہ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، پاکستانیوں کو احتیاط کرنی چاہیے اور سماجی میل جول ختم کر کے گھروں تک محدود ہو جانا چاہیے۔
