اسلام آباد( رافعہ زاہد سے ) حماد اظہر پارٹی میں کام جاری رکھیں گے،وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔۔۔تحریک انصاف 22 اگست کو اسلام آباد میں جلسہ کریں گے۔۔نواز شریف نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو کئی انٹرویوز دیے۔۔موجودہ دور حکومت مشرف سے بھی زیادہ خراب۔۔مبارک ثانی کیس سے متعلق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کیا اتفاق ہوگیا۔۔چیئرمین پی ٹی آئی نے اندرونی خبر دے دی۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران رؤف حسن اور بھارتی صحافی کَرن تھاپر کے درمیان رابطوں سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر علی خان کا مؤقف تھا کہ موجودہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو “the wire” پر آرٹیکل پڑھنے کو کہہ دیا جس میں کرن تھاپر نے واضح بیان کیا ہے کہ انڈیا میں کچھ لوگ انہیں بطور pro- پاکستانی دیکھ رہے ہیں اور دوسری جانب رؤف حسن کے تناظر میں پاکستانی حکومت انہیں بطور پاکستان مخالف دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو کئی انٹرویوز دیے ہیں، موجودہ دور حکومت مشرف سے بھی زیادہ خراب ہے۔
مبارک ثانی کیس سے متعلق سوال پر تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کا اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ مبارک ثانی کیس میں اپنے فیصلے کا صرف ایک پیرا گراف تبدیل نہیں کریگی بلکہ سپریم کورٹ کو اپنا پورا فیصلہ منسوخ کرنا ہو گا کیونکہ اس فیصلے میں ملکی قوانین کا خیال نہیں رکھا گیا۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ ہمیں اسمبلی میں بات کرنے نہیں دی جارہی ہے۔
پروگرام میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری 3 سیٹیں دوبارہ گنتی کی آڑ میں چھینی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے ہمیں بہت اُمیدیں ہیں، عوام نے مشکل حالات میں بانی پی ٹی آئی کا 8 فروری کو ساتھ دیا، ہم دھرنوں پر نہیں گئے،پارلیمنٹ گئے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ 22 اگست کو اسلام آباد میں جلسہ کریں گے، اس حوالے سے اجازت نامہ (این او سی) مل گیا ہے، ہمارے لوگ پُرامن ہوں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ فیصلہ کرلیا ہے کہ پارٹی کے اندر استعفوں سے متعلق معلومات اب سامنے نہیں آئیں گی۔ حماد اظہر پارٹی میں کام جاری رکھیں گے، وہ مستعفی نہیں ہوں گے جبکہ شکیل خان کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں اس حکومت میں ہوئیں، ہم حکومت میں آئیں گے تو کبھی ایسا نہیں ہوگا۔





