ہم اور ہمارے محترم رؤف کلاسرا صاحب ایک ہی سلسلے کے دو مرید ہیں۔ سلسلہء ڈاکٹر ظفر الطاف۔
سن 1965 بیچ کے اصلی تے وڈے سی ایس پی۔ اکنامکس کے برمنگھم یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی۔ زراعت کے سیکرٹری اور چئیرمین زرعی تحقیقاتی کونسل کئی دفعہ۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک دفعہ کے چئیرمین۔
ہمارے دونوں کے مرشد ڈاکٹر ظفرالطاف خرگوش کے حوالے سے دو مثالیں بہت دیتے تھے۔
پہلی مثال تو شکاری کتوں (Hounds) کی رفاقت میں خرگوش کے ساتھ دوڑنا۔
اس Concept کو دہلی کی عورتیں، "چور کو کہے چوری کر، شاہ کو کہے گھر لٹا” کے طور پر محاورے میں استعمال کرتی تھیں۔
دوسری مثال تھی کہ خرگوش سو بھی جائے تو اس ملک میں کچھوے نے نہیں جیتنا۔ بچپن میں پڑھی گئی کہانی یاد ہے نا۔ ریس لگی تھی۔ خرگوش تیز دوڑ کر بہت آگے نکل آیا تھا۔ مڑکر دیکھا تو کچھوئے کا دنیائے سیاست میں ایم کیو ایم کی طرح دور دور تک کوئی نشان نہ تھا۔
خرگوش نے سوچا کچھوا سدا کا لوزر بہت پیچھے رہ گیا ہے کیوں نہ میں کچھ دیر آرام کرلوں۔ منرل واٹر کی بوتل سے وڈکا کا گھونٹ بھر کر لیٹا ہی تھا کہ نیند نے آ لیا۔ سسرا سوتا ہی رہ گیا اور کچھوا چپ چاپ نکل کر ریس جیت گیا۔
ہماری استانی جی کہتی تھیں کہ کچھوے کو "خلائی مخلوق” کی سپورٹ حاصل تھی ورنہ پاکستان میں ایسی ریس جیتنا ممکن نہیں۔
اتنی تمہید کے بغیر بات نہ بنتی۔ اشاروں میں بات سمجھنے کا ہنر سیکھ لیں تو بہتر نتائج ملنے لگیں گے۔ سر پرسیب گرا تو نیوٹن کا دماغ چل پڑا۔ حالانکہ ریاضی دان تھا۔ کیسے کیسے قانون بنائے، ایک ہم ہیں کہ سر پر آسمان ٹوٹ پڑے تب بھی ہل من مزید کے نعرے مارتے ہیں۔
آج کلاسرا جی نے ایک سست رفتار معاشرے کی کہانی کے نام سے بہت دل گرفتہ مضمون باندھا ہے۔ یہ مضمون ایک درد مند، وطن دوست انسان کا نوحہ الم ہے۔ یہ ان رویوں کا شائستہ ماتم ہے جس کا شکار ہم من حیث القوم دکھائی دیتے ہیں۔
اب کی دفعہ ان کی مایوسی کا ٹریگر کورونا وائرس نے دبا دیا۔ انہیں لگا کہ حکومت نے اس عالمی وبا اور سلسلہ ہلاکت سے نمٹنے کے حوالے سے روایتی کاہلی، پیدائشی نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ ان کی ضد ہے کہ سرکار کے پاس دو ماہ تھے۔ تیاری کرتی تو بہت کچھ کرسکتی تھی۔ لیڈر شپ کی مثال کے لیے انہوں نے اوج پر پہنچے ہوئے کینیڈا کے ٹروڈواور جرمن لیڈر اینجلا مارکل کی بات کی۔ صاحب مضمون کو کورونا وائرس میں دو ماہ کے دورانیے کا ذکر الم ناک کرتے وقت یہ بھی یاد نہ رہا کہ تیاری کے لیے جو بائیس سال ملے تھے، اس کا نتیجہ بھی ایام وبا میں اٹلی اور ایران کی بربادی جیسا ہی ہے۔
کلاسرا صاحب کا المیہ یہ ہے کہ وہ وین۔ ٹی۔ لیٹر کے تلے عمر خضر مانگتے ہیں۔ سادہ دل سرائیکی ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ حکومت اور اس کے کارندوں کا یہ حال ہے کہ ان کے بڑے وکیلوں سے اتنے اہم نوٹیفیکشن درست ڈرافٹ ہی نہیں ہوتے۔
نواز شریف کے ترک وطن کے حوالے سے گرتے پلیٹ لیٹس کی رپورٹوں پر ان کا کنفیوژن اس لیول کا تھا کہ گویا کسی نے ان کو را اور موساد کے جاسوسوں اور ان کے پاکستان میں تعیناتی کے مقامات کی فہرست ہندی اور عبرانی زبان میں تھما دی ہو۔۔ سرکار میں شبر زیدی جیسے معصومین اور مقتولین گھس بیٹھیے شامل تھے جن کو یہ یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ان کا ادارہ ایف بی آر وزارت خزانہ کے ماتحت ہے۔ ایسا ہی عالم مشیرخزانہ کا ہے کہ وہ خود کو وزیر اعظم کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے۔
پاکستانیوں کو Fatalistیعنی تقدیر کا جبر ماننے والے اور اپنی تدبیر کو ہر سطح پر بے اثر اور حقیر جاننے والا بنانے میں اداروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ عوام کی بہت بڑی تعداد ایمان کی حد تک یہ ساغر زہر آب پی چکی ہے کہ مملکت خداداد میں خرگوش سو بھی جائے تو کچھوے نے نہیں جیتنا۔۔ اس دوران جب تک جون ایلیا اپنا واحد پاجامہ پینتیس کرتوں کے درمیان تلاش کرلیں بے حس رویوں پر ان کا ایک شعر پڑھ لیتے ہیں (اس کرتوں پاجامے کے چکر میں مشتاق یوسفی والا جملہ مت بھولیے گا)
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے
علامہ اقبال کو اگر آپ جون ایلیا کے مقابلے کا شاعر مانتے ہیں تو انہوں نے بھی بہت پہلے کہا تھا کہ نہ صرف متاع کارواں جاتا رہا ہے مگر وائے ناکامی کا محل یہ ہے کہ کارواں کے دل سے احساس زیاں بھی جاتا رہا ہے۔۔ جس قوم سے Sense of Loss ہی رخصت ہوجائے اس کا نوحہ کیسا.
ماڈل ٹاؤن تو یاد ہے نا۔ جب اس کے مرکزی کردار توقیر شاہ وزارت صحت میں ترقی پا کر سیکرٹری لگے تو مولانا طاہر القادری کو خبر سن کر کینیڈا میں لگا کہ انہیں بھی کورونا نے پکڑ لیا ہے۔ آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔ ورنہ وہ تو گانا چاہتے تھے کہ کیا ہوا تیرا وعدہ۔
پچھلے دنوں انیتا ڈونگرے نامی بھارتی ڈیزائنر کا گھاگرا پورے آگرہ شہر میں گھوما تھا۔ کوئی سوال نہ ہوا کہ ڈیڑھ کروڑ کا یہ گھاگرا خریدنے کے پیسے کہاں سے آئے۔ پہلے دوائیں اور بعد میں چینی آٹے میں کس نے مال بنایا۔ یہ جو اتنے بینک اکاؤنٹ پکڑے گئے، افسر بند ہوئے، یہ کیا سب ونگ کمانڈر ابھی نندن تھے کہ انہیں چھوڑے جاتے ہو۔
یہ مت بھولیے کہ ایران اور اٹلی ہم سے بہت زیادہ منظم اور تاریخ کے دھارے میں تسلسل سے جینے والے معاشرے ہیں۔ وہ قومی اکائی جہاں ایک زبان بولی جاتی ہو وہاں خیال کی ترویح و تشہیر آسان ہوتی ہے۔ انقلاب بھی وہیں آتے ہیں ہمارے جیسے کثیر الزبان اور منتشر معاشروں میں نہیں۔ انقلاب کے زمانے سے ایرانی قیادت کے پاس Crowd-Control کا بھی بہت مستند تجربہ ہے۔ قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر انبوہ غمگین کو دیکھ کر اندازہ ہوا ہوگا۔ سن اسی سے ایرانی مسلسل برسرپیکار ہیں اس کے باوجود وہاں کورونا کا حال برا ہے، اٹلی نسبتاً ایک خوش حال معاشرہ ہے۔ چھوٹے گھرانے وہاں عام ہیں۔ ہمارے شہر کراچی اور لاہور تو دنیا کے ساٹھ ممالک سے آبادی کے لحاظ سے بڑے شہر ہیں۔ سیاحوں سے مستقل مڈبھیڑنے بھی انہیں بہت چالاک اور معاملہ فہم بنادیا ہے۔ اس کے باوجود یہ دونوں اور اس کے علاوہ اسپین اور امریکہ بھی اس وبا سے بچنے میں کچھ خاص کامیاب دکھائی نہیں دیتے۔
کورونا کے معاملے میں ہم سرکار کو دوش نہیں دیتے۔ وہ بے چارے ہیلتھ کے موجودہ انتظامی ڈھانچے سے بہترین کام لے رہے ہیں۔ ان کی کارکردگی مشرف دور کے زلزلے کی لوٹ مار اور گیلانی دور کے سیلاب کی امدادی کارروائی میں ڈکیتیوں سے بہت بہتر ہے۔ کسی نے یہ بھی الزام نہیں لگایا کہ کسی بڑی بیگم صاحبہ نے بیگم طیب اردگان کا امداد میں دیا گیا ہار چرا کر اپنے گلے میں ڈال لیا ہو۔ ہر چند کہ جب عمران خان صاحب کو ان کے بڑ بولوں کے نرغے میں دیکھتے ہیں تو یقین آجاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے وزارء اور امپورٹڈ مشیروں کا معاملہ یوں ہے کہ ناکامی اور نااہلی مجبوری نہیں، سرکار کی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد اقبال دیوان کے کالمز ہمارے ویب میگزین ’نقار خانے‘ میں ”مومن مبتلا“ کے نام سے شائع ہوں گے۔ آپ چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔آپ سابق بیورکریٹ ہیں

بہت ہی خوبصورت تحریر اور المیہ کہ میں آپکی کوئی بھی تحریر پہلی مرتبہ پڑھ رہا ہوں اور انشاللہ آئندہ پڑھتا رہوں گا۔
ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں، کہ تعریف کرنے میں استعمال کیئے جائیں، اللہ کی قدرت کہ قلم کی طاقت، کاٹ، الفاظ کا چناؤ، ہر دفعہ، ہر کالم ایک نئے ذائقے کی طرح، ایک نئی بارش کی طرح بھگوتا، نظروں سے دل و دماغ کی تراوٹ کرتا، ذہن و دل کو نئی دنیا سے روشناس کرتا جاتا ہے؛ دورِ حاضر کے بہترین کالم، بہترین و منفرد ادب کے ساتھ، یہ ہیں اقبال دیوان ۔۔
ماشاء اللہ؛ ماشاء اللہ؛ ماشاء اللہ؛