تائیوان میں قرنطینہ سے بھاگ کر نائٹ کلب جانے والے شخص کو دس لاکھ ’تائیوانی ڈالرز‘کا جرمانہ کردیا گیا۔
تائیوان کا ایک 35 سالہ شہری ہوانگ نامی شہری کمبوڈیا سے واپس آیا تو اسے 14 دنوں کے لیے قرنطینہ میں بھیج دیا گیا، تاہم وہ بھاگ کر ایک نائٹ کلب میں چلا گیا جہاں وہ دیگر لوگوں کے درمیان رقص کرتا رہا۔
اطلاع ملنے پر پولیس نے موبائل فون ایپ کی مدد سے اسے نائٹ کلب میں تلاش کر کے گرفتار کر لیا، پولیس کی طرف سے بتایا گیا کہ گرفتار کیے گئے شخص کو دس لاکھ تائیوانی ڈالرز کا جرمانہ کیا گیا ہے جو امریکی ڈالرز میں 33 ہزار جبکہ برطانوی پاؤنڈز میں 28,220 کی رقم بنتی ہے۔
کورونا جیسی عالمی وباء سے نمٹنے کے لیے تائیوان کی حکومت سخت اقدامات لے رہی ہے اور بیرون ممالک سے سفر کر کے آنے والے مسافروں کو 14 دنوں کے لیے گھر میں الگ تھلگ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
بیوی کو دھوکہ دیکر محبوبہ کے ساتھ اٹلی جانیوالا شوہر کرونا وائرس کا شکار
کورونا وائرس کے خلاف مزاحیہ نظم گانے والے سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے
کورونا وائرس عالمی سطح پر کیا تبدیلیاںلائے گا؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں
بیرون ملک سے سفر کر کے آنے والوں کو قرنطینہ تک محدود رکھنے کے لیے یہ ایک اچھا طریقہ ہے کیونکہ لوگوں میں جرمانے کا خوف ہو گا تبھی وہ گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں گے۔
پاکستانی حکومت کو بھی چاہئے کہ ایسی مثال قائم کرے اور قرنطینہ سے فرار ہونے پر نہ صرف بھاری جرمانے عائد کرے بلکہ ان جرمانوں کی وصولی بھی کرے۔
یہ حکمت عملی بہت کارگر ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے عوام میں قانون کی پاسداری کا شعور پیدا ہو گا اور احتیاطی تدابیر کے طور پر گھر سے باہر نکلنے یا بیماری کی صورت میں فرار ہونے کی کوشش نہیں کریں گے۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے اور ہر ملک نے اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے پر زور دیا ہے۔
جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تک تائیوان میں کورونا کے 195 مریض ہیں اور اس وبا کے باعث دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
