متحدہ عرب امارات میں فارمیسیوں کے چین کے مالک وی پی شمیر نے بھارت میں اپنے اغوا کی لرزہ خیز روداد سنائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں 39 گھنٹے تک قید رکھا گیا، تشدد کیا گیا، گلا گھونٹا گیا، کھانے سے محروم رکھا گیا اور تاوان کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
شمیر کا تعلق بھارتی ریاست کیرالا سے ہے جہاں وہ چھٹیاں گزارنے گئے تھے۔گھر سے صرف 50 میٹر کے فاصلے پر ایک سفید ایس یو وی نے ان کی موٹر سائیکل کا راستہ روکا۔ مسلح افراد نے زبردستی گاڑی میں ڈال کر اغوا کرلیا۔اغوا کاروں نے 15 لاکھ درہم تاوان اور دبئی کے البرشہ ریسٹورنٹ کیس میں ٹراول بین اور گرفتاری کے وارنٹ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
واقعہ کا پس منظر:
2023 میں یو اے ای کی عدالت نے شمیر کے حق میں 6 لاکھ 75 ہزار درہم ہرجانے کا فیصلہ دیا تھا۔مخالفین مبینہ طور پر شمیر کے ایک برطرف سابق ملازم کے ساتھ مل گئے اور انہیں دھمکیاں دینے لگے۔شمیر کے مطابق یہی گروہ ان کے اغوا میں ملوث نکلا۔
شمیر پر گاڑی میں شدید تشددکیا گیا ، مار پیٹ اور گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی۔تاوان کی رقم بعد میں کم کر کے 8 لاکھ درہم کر دی گئی لیکن وہ کیش پر اصرار کرتے رہے۔اغوا کار موبائل فون بند رکھ کر کئی سو کلومیٹر سفر کرتے رہے اور انہیں سرحد پار تمل ناڈو لے جانے کی تیاری کر رہے تھے۔
اغوا کی خبر میڈیا میں آنے کے بعد اغوا کاروں نے گھبراہٹ میں مزید تشدد کیا۔پولیس نے خفیہ آپریشن کے بعد کیرالا کے شہر کولم (کڈناپ پوائنٹ سے 300 کلومیٹر دور) میں شمیر کو بازیاب کرایا۔شمیر کا کہنا تھا کہ اگر پولیس آدھا گھنٹہ اور لیٹ ہو جاتی تو ہمیں سرحد پار لے جا کر مار دیتے۔ یہ میری زندگی کے سب سے لمبے 39 گھنٹے تھے۔
شمیر نے کیرالا پولیس کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے رات بھر ان کے گھر رہ کر شواہد اکٹھے کیے، کیس کی جڑ تلاش کی اور تین ٹیموں میں تقسیم ہو کر اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔





