متحدہ عرب امارات میں نو عرب شہریوں پر مشتمل ایک گروہ کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک منظم گینگ تشکیل دیا جو سنگین جرائم میں ملوث تھا جن میں ایک شخص کو اغوا کرنا، اُس پر ناروا حملہ کرنا اور برہنہ حالت میں ویڈیو بنا کر رقم بٹورنے کی کوشش شامل ہے۔
یہ مقدمہ اُس وقت سامنے آیا جب متاثرہ شخص نے پبلک پراسیکیوشن کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم My Safe Society کے ذریعے رپورٹ درج کروائی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسے اغوا کیا گیا، اُس پر بدسلوکی کی گئی اور ہاتھ باندھ کر اُس کی ویڈیو بنائی گئی۔
پبلک پراسیکیوشن نے فوری تحقیقات کا آغاز کیا، شواہد جمع کیے، اور وفاقی عدالتی نفاذ دفتر (Federal Judicial Enforcement Office) کو ہدایت دی کہ وہ مشتبہ افراد کی شناخت، گرفتاری اور جرائم میں استعمال ہونے والے آلات کی ضبطی کے لیے ضروری کارروائی کرے۔
تحقیقات سے پتا چلا کہ ملزمان نے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ تشکیل دیا تھا جو ریاست کی سلامتی، عوامی نظم و ضبط اور سماجی امن کے لیے خطرہ بن چکا تھا۔حکام نے ملزمان کی تصاویر عوام کے ساتھ شیئر کی ہیں لیکن اُن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
تحقیقات کے مطابق، نو مجرموں نے پہلے متاثرہ شخص کو اپنے ایک فلیٹ پر بلایا، جہاں انہوں نے اُس پر حملہ کیا، ہاتھ باندھے اور اُسے ایک ہفتے تک قید رکھا۔اس کے بعد انہوں نے متاثرہ شخص کو قرض کے کاغذات پر زبردستی دستخط کروائے، پھر اُس کی برہنہ حالت میں ویڈیو بنائی اور بعد میں یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرکے اُس کے خاندان کو بلیک میل کیا تاکہ رقم وصول کی جا سکے۔
ملزمان پر اب ایسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کی سزا ئے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کے منظم مجرمانہ اقدامات کو ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے اٹارنی جنرل متحدہ عرب امارات ڈاکٹر حماد سیف الشمسی کا کہنا تھا کہ ریاست کی سلامتی اور استحکام کا تحفظ ہماری قومی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور اس میں کسی قسم کی برداشت یا نرمی نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پبلک پراسیکیوشن قانون کے غیرجانبدارانہ نفاذ، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پرعزم ہے جو قومی سلامتی یا سماجی امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔



