تحریر : سمیرا سلیم
خیبرپختونخوا میں گزشتہ چند ہفتوں سے تبدیلی کا سلسلہ جاری ہے۔سینیٹ کی جو نشست پی ٹی آئی کے شبلی فراز کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی، اس پر اب عمران خان کے نامزد کردہ ہارڈ لائنر خرم ذیشان سینٹر بن چکے ہیں۔ ان کو ایک اچھے ایڈیشن کی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عمران خان کی رہائی جن چند رہنماؤں کی ترجیح سمجھیں جاتی ہے ان میں سے خرم ذیشان بھی ایک ہیں، جو کھل کر اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت پر تنقید کرتے ہیں۔
عمران خان جیل سے بیٹھ کر جو فیصلے کر رہے ہیں وہ کیا رنگ لاتے ہیں، ان کا اثر آنے والے دنوں میں معلوم پڑ جائے گا۔ کے پی کے کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کی وجہ عمران خان سے ملاقات نہ ہونا تھا۔ موجودہ نظام میں سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ملاقات نہ کروائے جانے کی وجہ بھی یہی ہے کہ سہیل آفریدی عمران خان سے ہدایات نہ لیں سکیں۔ لہذا وہی کچھ ہوا سہیل آفریدی نے جن کے ساتھ بھی مل بیٹھ کر نئی کابینہ تشکیل دی ہے وہ کچھ زیادہ impressive نہیں۔
ہائبرڈ نظام بھی پوری کوشش کر رہا ہے کہ صوبے میں بدامنی اور دہشتگردی کے اس ماحول میں عمران خان کو صوبے کے معاملات سے دور رکھا جائے، نہ ان تک معلومات پہنچیں اور نہ ہی وہ وقتاً فوقتاً اہم ہدایات جاری کر سکیں۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا نے جو نئی ٹیم تشکیل دی ہے اس میں زیادہ تر وہی چہرے ہیں جو محمود خان اور گنڈاپور کی کابینہ کا حصہ تھے۔
سہیل آفریدی کی 13 رکنی کابینہ میں 10 وزرا، دو مشیران اور ایک معاون خصوصی شامل ہیں۔ چند ایک کے علاؤہ ٹیم پرانی ہی چنی گئی ہے۔ البتہ بیرسٹر سیف کی چھٹی کرا دی گئی ہے۔ جن کے بارے میں کارکنوں میں یہ تاثر عام تھا کہ ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قریبی روابط ہے۔ اس تاثر کو اس بات سے بھی تقویت ملتی تھی کہ وہ جب چاہتے عمران خان سے مل لیتے تھے جبکہ یہ سہولت عمران خان کے وکلاء اور بہنوں کو بھی حاصل نہیں تھی۔
جو وزراء علی امین گنڈاپور کی کابینہ کا حصہ تھے ان کی اکثریت اب سہیل آفریدی کی کابینہ کا بھی حصہ ہیں، ان میں پشاور سے مینا خان آفریدی، ضلع کوہاٹ سے آفتاب عالم خان صوابی سے فیصل ترکئی، بونیر سے سید فخر زمان اور اسد قیصر کے چھوٹے بھائی عاقب اللہ خان شامل ہیں۔مزید برآں، سوات سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر امجد، ضلع نوشہرو سے خلیق الرحمان بھی علی امین گنڈاپور کے دور میں وزیر تھے۔
مشیروں میں سے مزمل اسلم علی امین گنڈاپور کی کابینہ میں مشیر خزانہ تھے اور نئی کابینہ میں بھی انھیں یہی عہدہ دیا گیا ہے۔ کابینہ میں نئی انٹری کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے شفیع جان کی ہے۔ انھیں معاون خصوصی بنایا گیاہے جوشیلے اور دبنگ سمجھے جانے والے شفیع جان اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی سے باز رہنے کی بات کرتے رہے۔ ملٹری آپریشن کے بھی خلاف ہیں۔
مجموعی طور پر کابینہ نظریاتی طور پر مضبوط اور ہارڈ لائن رکھنے والے وزراء پر مشتمل ہے۔ سہیل آفریدی نے جو کھلاڑی صوبے کی گڈ گورننس کے لئے میدان میں اتاریں ہیں، اس پر عمران خان کا کیا ردعمل آئے گا یہ دیکھنا ہو گا۔ کیونکہ اس کابینہ میں زیادہ تر چہرے وہی ہیں جو گنڈاپور کی کابینہ کا حصہ تھے۔ بلکہ دو وزراء عاقب اللہ اور فیصل ترکئی کو تو گنڈاپور پور نے رواں برس ناقص کارکردگی پر فارغ کر دیا تھا۔ چند ماہ بعد وہی چہرے پھر کابینہ کا حصہ بن گئے ہیں، پارٹی میں گروپنگ اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ کون صحیح ہے کون غلط اس کا ادراک کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
سہیل آفریدی کی قیادت میں نئی کابینہ کتنی طاقت کے ساتھ صوبے کو درپیش دہشتگردی، کرپشن اور بیڈ گورننس کے مسائل پر قابو پاتی ہے یہ چند ہفتوں میں عیاں ہو جائے گا۔ سہیل آفریدی پر جو بھاری ذمہ داری ڈالی گئی ہے ، دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ ملکر میدان فتح کرنے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے مؤثر حکمت عملی سے نہ صرف صوبے کی محرومیوں کو ختم کرنا ہے بلکہ عمران خان کی رہائی کا جو نعرہ لگایا ہے، اس کو بھی کامیاب بنانے کے لئے جدو جہد کرنا یے۔ بظاہر نومبر میں کوئی ایڈونچر ہوتا نظر تو نہیں آ رہا مگر مزاحمت کی آواز ضرور آٹھ رہی ہے۔ کے پی کی عوام بھی عمران خان کی رہائی کی طلبگار ہے۔ اگر سہیل آفریدی اپنی ٹیم کے ساتھ ملکر وہ تمام اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے تو پھر غم کی شام لمبی ہوتی دکھائی دیتی ہے۔





