دبئی: کینیڈا کی اسٹڈی ویزا پالیسی مزید سخت ہونے، فراڈ پکڑنے کے اقدامات اور بھارت سے کشیدہ تعلقات کے باعث بھارتی طلبہ کی کینیڈا جانے کی امیدوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اسٹڈی پرمٹ کے لیے درخواست دینے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں ریکارڈ کمی آئی ہے جبکہ مسترد کیے جانے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اگست 2023 میں بھارتی طلبہ کی 20ہزار 900 درخواستیں موصول ہوئیں، جو کہ اگست 2025 میں صرف 4ہزار 515 رہ گئیں ۔ یہ تقریباً 80 فیصد کمی ہے۔ بھارت جو ایک دہائی سے زائد عرصے تک کینیڈا کا سب سے بڑا بین الاقوامی طلبہ کا ذریعہ تھا، اب اُن ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں ویزا مسترد ہونے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔
یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت اور کینیڈا اپنے سفارتی تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔تعلقات اُس وقت متاثر ہوئے جب سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے 2023 میں برطانوی کولمبیا میں ایک کینیڈین شہری کے قتل میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا، جسے بھارت نے بارہا مسترد کیا۔
فراڈ کے خلاف کریک ڈاؤن
اوٹاوا حکام کا کہنا ہے کہ سخت اقدامات کی وجہ جعلی درخواستوں میں اضافہ ہے، جن میں زیادہ تر کا تعلق بھارت سے ہے۔
2023 میں ایک ہزار 550 جعلی اسٹڈی پرمٹ درخواستیں پکڑی گئیں، جن میں جعلی لیٹر آف ایکسیپٹنس شامل تھے۔
2024 میں اپ گریڈڈ ویریفکیشن سسٹم نے دنیا بھر سے 14ہزارسے زائد مشکوک درخواستیں شناخت کیں۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، کینیڈا کے تعلیمی نظام کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے سخت فنانشل اور ویریفکیشن رولز نافذ کیے گئے ہیں۔
تنہائی نہیں، شفافیت، کینیڈا کا مؤقف
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ "ہم بھارتی طلبہ کو خوش آمدید کہتے ہیں، مگر امیگریشن سسٹم کی شفافیت ہماری ترجیح ہے۔”
بھارتی سفارتخانے نے اس بارے رد عمل دیتے ہوئے کہا :دنیا کے بہترین طلبہ میں سے کچھ بھارت سے ہیں اور کینیڈین اداروں نے ہمیشہ ان سے فائدہ اٹھایا ہے۔
کینیڈین یونیورسٹیز پر اثر
واٹرلو یونیورسٹی میں بھارتی طلبہ کی تعداد تین چار سال میں دو تہائی کم ہو گئی۔یونیورسٹی آف ریجائنا اور یونیورسٹی آف سسکچیوان نے بھی اسی طرح کی کمی رپورٹ کی۔ایجوکیشن کنسلٹنٹس کا کہنا ہے کہ اب فنڈز کے ذرائع ثابت کیے بغیر ویزا ملنا تقریباً ناممکن ہے۔





