آج برطانوی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کے ہفتہ وار سوال و جواب کے سیشن میں اپوزیشن لیڈر جیرمی کوربین کا خطاب اور ان کے حکومت سے مطالبات سب سے اہم تھے۔
جیرمی کوربین عدل و انصاف اور معاشرتی برابری کے حصول کی جدوجہد میں سب سے نمایاں آواز رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپنے آخری سوال و جواب سیشن میں انہوں نے جہاں عام لوگوں کے حقوق اور ضروریات کے حوالے سے حکومت کو توجہ دینے پر زور دیا وہیں انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ توجہ اور داد کے مستحق وہ صفائی کرنے والے عملے کے افراد ہیں جو اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر لوگوں کے گھروں سے گندگی اور ری سائیکلنگ کا تمام کوڑا کرکٹ اکٹھا کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے شہروں کو صاف، اہم اور ممتاز بناتے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم نے بھی صفائی کرنے والے عملے کے لیے حفاظتی لباس، دستانے اور ماسک وغیرہ کے علاوہ عوام سے درخواست کی کہ وہ اپنے گھر کی گندگی کو پلاسٹک کے دو تھیلوں میں بند کر کے 72گھنٹوں کے لیے علیحدہ رکھیں تاکہ وائرس ان لوگوں کو نقصان نہ پہنچا سکے۔
بظاہر یہ شاید ایک معمولی بات محسوس ہو لیکن اب شاید ہر شخص کو یہ سوچنا پڑے گا کہ وائرس سے متاثر ہونے کے لیے کسی غریب امیر، بڑے چھوٹے طبقاتی فرق کی تمیز ختم ہو گئی ہے، یہ وائرس کسی بھی طرح سے کسی بھی شخص سے دوسرے تک منتقل ہونے میں کوئی فرق روا نہیں رکھے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگتریس نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ کورونا وائرس جنگل کی اس آگ کی مانند ہے جس کی لپیٹ میں سب آ چکے ہیں اور اس کی تباہ کاریوں سے ہمیں صرف اپنے آپ کو ہی نہیں بچانا بلکہ اردگرد کے لوگوں کو بھی بچانا ہے۔ اگر ترقی یافتہ ممالک یہ سوچیں کہ وہ اپنے آپ کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ترقی پذیر اور دیگر ممالک کی بھی اتنی ہی مدد کرنا ہو گی کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وائرس ان ممالک سے اور زیادہ خطرناک شکل میں ڈیویلپ ہو کر انہیں نقصان پہنچائے گا، اس سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ سب مل کر اس کا مقابلہ کریں۔
کہنے کو تو برطانیہ ایک فلاحی ریاست ہے جہاں لوگوں کو بہت سے حقوق حاصل ہیں، ان میں گزارہ الاؤنس، رہائش میں امداد، تعلیم اور طبی سہولتوں کا مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں کلاس سسٹم بھی سب سے زیادہ ہے۔
دنیا کے دولت مند ترین لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے جن کا رہن سہن، طرز زندگی بہت ہی مختلف رہا ہے۔ ایک عام انسان ان کی زندگی کی آسائشوں کے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن کورونا وائرس کی وبا کے ساتھ ہی ٹائی ٹینک کے سب سے محفوظ اور اہم مسافر بھی عام انسانوں کی سطح پر آ چکے ہیں۔ سب کو ایک دم سے سمجھ آئی ہے کہ انسانی زندگی کے لیے کیا کچھ ان کے لیے اہم ہے۔
کورونا وائرس کی وباء پھیلتے ہی لوگوں نے سب سے پہلے سپر مارکیٹس کا رخ کیا اور حیرت انگیز طور پر سب سے زیادہ جس چیز کی مانگ میں اضافہ ہو ا وہ ٹوائلٹ پیپر تھے۔ ہمارے ایشین اس لحاظ سے خود کو خوش قسمت تصور کر رہے تھے کہ ان کو دیسی لوٹے کی سہولت میسر تھی لیکن گوروں کو ٹوائلٹ پیپر کے لیے چھینا جھپٹی کرتے دیکھ کر وہ حیرت زدہ تھے۔ دوسری چیز ہینڈ سینی ٹائزر تھا جو پہلے دو تین دنوں میں ہی مارکیٹس سے غائب ہو گیا۔
شروع کے دنوں میں سپر مارکیٹس میں لوگوں نے ضروریات زندگی کے حصول کے لیے اس قدر ہجوم کیا کہ حکومت کو وارننگ دینا پڑی کہ خریداروں کی لائنیں بنائی جائیں اور ان کے درمیان دو میٹر کا فاصلہ رکھا جائے۔ اس طرح دور دور تک لائینیں لگ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں میں کام کرنے وا ے ڈاکٹرز، نرسیں، معذور اور بزرگ افراد کے لیے علیحدہ وقت رکھا گیا ہے۔
مارکیٹس میں دکانداروں نے نیشنل ہیلتھ سروس کے عملے کی آمد پر گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا، اب یہ احساس زیادہ شدت سے ہونے لگا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو انسانیت کی فلاح، بھلائی اور مدد کے لیے سب سے آگے ہیں اس لیے انہیں معاشرے میں زیادہ عزت واحترام دیا جائے۔
لند ن ٹیکسی کے ڈرائیوروں نے حکومت کو پیشکش کی ہے کہ وہ نیشنل ہیلتھ سروس کے ملازمین، ڈاکٹرز اور نرسوں کو اپنی ٹیکسی میں ڈیوٹی پر پہنچانے کو تیار ہیں۔ اس طرح کے بہت سے شعبوں سے متعلقہ لوگوں کو قوم کا ہیرو تصور کیا جا رہا ہے۔
وباء کے دنوں میں سب سے اہم بات اس وقت دیکھنے میں آئی جب روزانہ کی کورونا وائرس بریفنگ میں درخواست کی گئی کہ اس مشکل وقت میں بہت سے معذور، بزرگ اور مریض افراد ایسے ہیں جنہیں خوراک، طبی امداد اور ادویات وغیرہ کی اشد ضرورت ہے، حکومت نے کہا کہ ان کی دیکھ بھال کے لیے کوئی بھی موجود نہیں ہے اس لیے لوگ جذبہ خیر سگالی کے تحت ان کی مدد کے لیے خود کو آن لائن رجسٹرڈ کریں۔
اس اعلان کے ساتھ ہی ایک ہی دن میں پانچ لاکھ رضا کاروں نے خود کو رجسٹر کرا دیا، یہ سب لوگ اپنے اپنے علاقے میں لوگوں کی مدد کے لیے جائیں گے، ممبر پارلیمنٹ اور کونسلرزاپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کے ساتھ فون، ای میل، وٹس ایپ گروپ اور سکائپ وغیرہ کے ذریعے رابطے میں ہیں، یہ سب اس لیے ممکن ہو رہا ہے کیونکہ برطانیہ کا پورا نظام بلدیاتی طرز پر استوار ہے۔
لوکل کونسلز اپنے اپنے علاقوں میں تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر تمام امور کی نگرانی کرتی ہیں، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ فلاحی ریاست کا ٹائی ٹینک ڈوبنے نہیں دیا جائے گا بلکہ آنے والے دنوں میں اس میدان میں زیادہ اہم مقام ان لوگوں کو ملے گا جو عوامی فلاح سے وابستہ ہوں گے۔
