دنیا بھر میں، بالخصوص ایشیاء میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد کورونا وائرس کی ایک نئی لہر اٹھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
امریکی ویب سائیٹ بزنس انسائڈر کے مطابق اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی لہر کے بعد مستقبل میں پہلے سے بھی زیادہ سخت لاک ڈاؤن کی ضرورت پڑھ سکتی ہے۔
ویب سائیٹ کے مطابق چین کے شہر ووہان، جہاں سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا تھا، میں لاک ڈاؤن بتدریج ختم ہونے کے بعد وائرس ایک بار پھر پہلے سے بھی زیادہ شدت سے سر اٹھا سکتا ہے۔
دو ماہ تک لاک ڈاؤن رہنے کے بعد ووہان میں 8 اپریل کو لاک ڈاؤن ختم کیا جائے گا جس کے بعد کورونا وائرس سے مزید تباہی آسکتی ہے۔ اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی ہے جس نے اموات کی شرح میں چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
چونکہ ووہان میں لاک ڈاؤن 23 جنوری سے شروع کر دیا تھا اس لیے کورونا کے نئے کیسز میں تیزی سے کمی دیکھی گئی، 19 مارچ کو شہر میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جس کے بعد ووہان کے علاوہ صوبہ کے دیگر شہروں میں زندگی اپنے معمول پر آرہی ہے اور تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے دوبارہ سے کھل رہے ہیں۔
بھارت میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر مزاحیہ سزا کی ویڈیو وائرل
بھارت میں 21 روز کے لاک ڈاؤن کا اعلان، کوئی گھر سے نہیں نکل سکے گا
وزیراعظم عمران خان کا ملک میں لاک ڈاؤن سے انکار
مگر کچھ طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد کورونا وائرس والی صورتحال دوبارہ سے شروع ہو جائیگی۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی میں وبائی امراض کے ماہرڈاکٹر بین کاولنگ نے بزنس انسائڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن وبا کے پھیلاؤ کی رفتار کو تین ماہ تک محض ملتوی کرتا ہے۔
لاک ڈاؤن ختم ہونے کی وجہ سے دو صورتوں میں وائرس کے دوبارہ پھیلنے کا کدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایک وجہ ان لوگوں کی گھروں سے نکلنے کی ہے جن میں وائرس کا شبہ ہو لیکن گھروں میں رہنے کی وجہ سے ان میں وائرس ہونے کی تشخیص نہ کی جا سکی ہو جبکہ دوسری وجہ وائرس زدہ بین الاقوامی مسافروں کی دوبارہ چین لوٹنے کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہو گئی تو عالمی معیشت پر اس کے بہت برے اثرات ہوں گے، کیونکہ ایک طویل عرصہ کے لیے معاشی سرگرمیاں جامد ہو جائیں گی۔
