اس وقت جبکہ دنیا نظر نہ آنے والے کورونا وائرس کے خوف سے تھرتھر کانپ رہی ہے، ریسرچرز اس غیبی بلا کو سمجھنے اور اس کا تدارک تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
اب تک عام آدمی تک کورونا وائرس پھیلنے کی وجوہات سامنے آ چکی ہیں اور یہ بات زیادہ تر کو معلوم ہے کہ کھانسنے یا چھینک مارنے سے ہوا میں پھیلنے والے چھوٹے چھوٹے قطروں میں یہ وائرس کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے۔
البتہ اب تک سائنسدان یہ معلوم نہیں کر سکے تھے کہ کیا جسم سے نکلنے والے دیگر مائع کے ذریعے بھی یہ وائرس پھیل سکتا ہے؟
اب سنگاپور کے نیشنل یونیورسٹی اسپتال میں موجود ریسرچرز نے بتایا ہے کہ آنسوؤں کے ذریعے کورونا وائرس کا پھیلنے کا خطرہ کم ہے۔
اپنی تحقیق کے دوران ان ریسرچرز نے 17 ایسے افراد کے آنسوؤں کے نمونے حاصل کیے جن میں کورونا کی ابتدائی علامات پائی گئیں اور جو بیس روز بعد اس وائرس سے صحتیاب ہو چکے تھے۔
جرمنی میں کورونا سے اموات کی شرح دنیا میں سب سے کم کیوں؟ ایک تفصیلی رپورٹ
کورونا وائرس کے متعلق چین میں موجود پاکستانی طالب علم کی ویڈیو وائرل ہو گئی
کورونا ٹیسٹ نے دوشیزہ کے چہرے کے خدوخال بدل دیے، ٹک ٹاک ویڈیو وائرل
ریسرچرز نے اسی عرصہ کے دوران انہی مریضوں کے گلے کے پچھلے حصے اور ناک کے مواد کے نمونے بھی حاصل کیے۔
تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ مریضوں کے آنسو وائرس سے پاک تھے جبکہ ان کے ناک اور گلے کورونا وائرس سے بھرے ہوئے تھے۔
اس سے قبل طبی ماہرین نے انکشاف کیا تھا کہ کورونا کے ایک سے تین فیصد مریضوں کی آنکھوں گلابی رنگ کی ہو جاتی ہیں۔
تاہم امریکہ کے طبی ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر آپ کسی کی گلابی آنکھیں دیکھیں تو خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ رہ شخص کورونا وائرس کا مریض ہے۔
امریکی ڈاکٹر سونال تولی کے مطابق یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ آپ اپنے ہاتھ بہت بار دھوئیں، اگر ممکن ہو تو کانٹیکٹ لینکس استعمال کریں اور ناک کور رگڑنے، منہ پر ہاتھ لگانے یا آنکھوں کو چھونے سے پرہیز کریں۔
