وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے شکار غریب ممالک کا قرض معاف کرنے کی درخواست کی تھی، خبر آئی ہے کہ قرض معافی تو فی الحال ممکن نہ ہو سکی مگر قرضوں کی فوری ادائیگی کے معاملے میں ریلیف مل سکے گا۔
ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی طرف سے غریب ممالک کے لیے بڑی خوشخبری آ گئی۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان سمیت آئی ڈی اے میں شامل 76 ممالک کے قرضوں کی واپسی کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ورلڈ بینک گروپ اور انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ نے غریب ممالک کے لیے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے وہ فوری قرض دہندہ ممالک سے قرضوں کی اقساط لینے کا عمل معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اس اقدام سے قرض دہندہ غریب ممالک کو کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی چیلنجز کا سامنا آسان ہوجائے گا۔
کورونا وائرس سے پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالرز نقصانات کا خدشہ
کورونا وائرس کے اثرات، روپے کے مقابلے ڈالر تین روپے مہنگا
کورونا کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے عوام سے مدد مانگ لی
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس دوران آئی ڈی اے کے غریب ممالک پر کورونا کی وجہ سے معاشی بحران اور ان کی ضروریات کا تعین کیا جائے گا.
ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے جی 20 لیڈرز کو دعوت دی ہے کہ وہ مل بیٹھ کر نقصانات کا تعین کریں اور ان ممالک کی شناخت کریں جو غیر مستحکم قرضوں جیسی صورتحال میں ہیں اور مالی مسائل سے ممالک کو نکالنے کے لیے جامع تجاویز تیار کریں.
مجوزہ اقدامت کی تائید 16 اور 17 اپریل کو ڈویلیپمنٹ کمیٹی کی جانب سے لی جائے گی.
کورونا کے شکار غریب ممالک کی طرف سے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی کاوش کو سراہا گیا ہے۔
