رپورٹ: شفیق لغاری
آج اقلیتی سینیٹر دنیش کمار نے سینیٹ میں کھل کر گفتگو کی۔ دنیش نے بتایا کہ سندھ کی ایک تحصیل میر پور سکرو کے گرلز ہائی سکول میں ہیڈ مسٹریس نے چھ ہندئوں لڑکیوں کو کہا تم ہندو ہو ۔ تم بتوں کی پوجا کرتے ہو جہنم میں جائو گے۔ تم مسلمان ہو جائو۔
سینٹر کا کہنا تھا یہ کیا طریقہ ہے۔ ہمیں پاکستانی آئین میں مذہبی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ قرآن میں سے آیت پڑھ کر کہا تمہارا دین تمہارے لیے، ہمارا دین ہمارے لیے۔ دنیش کا کہنا تھا ہمیں بتوں کی پوجا سے روکنے اور جہنم کی بشارت دینے والے خود قبروں، مزاروں اور درباروں پر ماتھا ٹیکتے ہیں۔ خود مشروب مغرب کے مزے لیتے ہیں۔ ہمیں راہ راست لانے کے فتوے دیتے ہیں۔
قران میں واضح ہے دین میں جبر نہیں۔ پھر مسلمان کیوں ہمیں زبردستی مذہب تبدیلی پر مائل کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں عمل اور کردار سے متاثر کریں۔ جو لڑکیاں مسلمان ہو جائیں انہیں ماں باپ سے تو ملنے دیں ۔
اس پر مائیک سینٹر نورالحق قادری نے سنبھالا اور کہا میں انشاء اللہ دنیش کمار کو حوروں اور جنت بارے بتائوں گا وہ اسلام قبول کر لیں گے۔





