سمیرا سلیم کا بلاگ
پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی ہے، 90 ہزار سے زائد جانیں قربان کیں، مگر دہشتگردی کا ناسور اب بھی جوں کا توں ہے۔اب ایک بار پھر بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف ملٹری آپریشن جاری ہے ۔ اس سے قبل پاک فوج نے 2009 میں آپریشن راہ نجات ، 2014 میں آپریشن ضرب عضب اور 2018 میں ردالفساد کے نام سے آپریشن کیئے تھے۔ان آپریشنز سے وقتی سکون تو آیا لیکن ٹھوس اور دیرپا امن کی منزل حاصل نہ ہوسکی۔ ابھی چند روز قبل بنوں میں گاڑی پر دہشت گرد حملے میں اسٹنٹ کمشنر جنوبی وزیرستان سمیت 4 افراد شہید ہو گئے۔ دہشتگردی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رواں برس صرف اکتوبر میں مدہشت گردی کے 89 واقعات ہوئے ہیں۔ جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال جنوری سے اب تک 67 ہزار آپریشنز ہوئے ہیں جس دوران کئی دہشتگرد مارے گئے۔
افغانستان کی سرزمین سے سرگرم چھ ہزار سے زائد جنگجووں پر مشتمل کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملک کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ٹی ٹی پی کی دہشتگردانہ کارروائیوں کا مرکز خیبرپختونخوا اور بلوچستان ہیں، تاہم حال ہی میں اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش حملے نے یہ ثابت کیا کہ ان دہشتگردوں کا ٹارگٹ پاکستان کا کوئی ایک صوبہ یا شہر نہیں ، بلکہ یہ ملک کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کو افغانستان کی طالبان حکومت سے ملنے والی ہر قسم کی سپورٹ ہے، جس کی وجہ سے ٹی ٹی پی پاکستان میں خوفناک حملے کر رہی ہے۔ بطاہر ٹی ٹی پی کو کابل پوری طرح سے پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے ۔ جس کا ذکر اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی نائب مستقل نمائندہ، ساندرا جینسن نے کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کو کابل میں حکام کی طرف سے لاجسٹک اور اہم مدد مل رہی ہے۔
اب 137 صفحات پر مشتمل اہم امریکی رپورٹ منظرعام پر آئی ہے جس میں پاکستان کی سلامتی کو درپیش اصل خطرے کے بارے انکشاف کیا گیا ہے۔ امریکی رپورٹ کہتی ہے کہ 2021 میں امریکی فوجی انخلاء کے دوران افغانستان میں اربوں ڈالرز کا چھوڑا گیا اسلحہ و فوجی سامان اب ٹی ٹی پی کے ہتھے چڑھ چکا ہے۔ 7 ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے امریکی ہتھیار، فوجی سامان اور سیکیورٹی انفرااسٹرکچر اب طالبان کی سیکیورٹی مشینری کا بھی اہم حصہ ہیں۔ یہی نہیں بلکہ افغانستان کی تعمیر نو اور جمہوریت کی منتقلی کے لئے امریکی کانگریس نے 2002 سے 2021 تک افغانستان کو 144 ارب 70 کروڑ ڈالر فراہم کیے تاہم تعمیر نو ہوئی اور نہ ہی جمہوریت آئی۔ پاکستان کے لئے خطرناک بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں اقوام متحدہ اور واشنگٹن پوسٹ کے دستاویزی ثبوتوں کے مطابق درجنوں امریکی ساختہ ہتھیار اب پاکستان میں دہشت گرد کاروائیاں کرنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں۔اور وہ مسلسل پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔چند روز قبل ہی ڈی جی آئی ایس پی آر نے قوم کو بتایا تھا کہ جیل میں بیٹھا اک شخص قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔امریکی رپورٹ کو دیکھیں تو یہ کہہ رہی ہے کہ ٹی ٹی پی کے علاوہ امریکی اسلحہ بھی پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ بن گیا ہے۔
رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی 2021 سے قبل جو ہتھیار استعمال کرتی تھی، اور جو اب استعمال کر رہی ہے وہ 2021 سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے افغان فورسز کے لیے 96 ہزار زمینی گاڑیاں، 4 لاکھ 27 ہزار سے زیادہ ہتھیار، 17 ہزار 400 نائٹ ویژن ڈیوائسز، اور کم از کم 162 طیارے خریدے تھے، جولائی 2021 تک افغان فضائیہ کے پاس 131 آپریشنل امریکی فراہم کردہ طیارے تھے، جن میں سے تقریباً تمام اب طالبان کے قبضہ میں ہیں۔ اس رپورٹ میں امریکا کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان میں امریکا نے 29 ارب ڈالرز سے زائد ضائع کر دئیے۔ امریکا کو تو جو نقصان ہوا سو ہوا ، لیکن ان فیصلوں کا جو اثر پاکستان کی سلامتی پر پڑ رہا ہے ریاست کو اس بارے میں حکمت عملی بنانی ہوگی۔ امریکا نے بغیر کسی میکنزم کے اسلحہ افغانستان چھوڑ کر پاکستان کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ پیدا کیا ہے۔ریاست کو اب ملکی سالمیت کو درپیش اس حقیقی خطرے کے پیچھے جانا ہوگا۔





