چنئی: وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے حالیہ ٹیرف میں اضافے کے باعث تمل ناڈو کے برآمد کنندگان کو درپیش بحران حل کریں۔ اس وقت امریکا نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا ہے۔
اسٹالن نے مودی کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں کنفرم شدہ آرڈرز منسوخ ہو گئے ہیں اور نئے آرڈرز آنا بند ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تروپور کے برآمد کنندگان نے کنفرم شدہ آرڈرز میں 15 ہزار کروڑ روپے کے حیران کن نقصان کی اطلاع دی ہے، جبکہ یونٹس میں 30 فیصد تک پیداوار میں کٹوتی نافذ کرنا پڑی ہے۔ نئے آرڈرز بھی تشویشناک رفتار سے کم ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں تروپور، کوئمبٹور، ایروڈ اور کرور اضلاع کے برآمد کنندگان کو مجموعی طور پر روزانہ 60 کروڑ روپے کے ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے، جس سے کئی چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ اسی طرح کی سنگین صورتحال ویلور، رانی پیٹ اور تیروپتھور اضلاع میں واقع فٹ ویئر کلسٹرز میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔
اسٹالن نے کہا کہ ٹیرف میں اضافے کے باعث صنعت کاروں کو منافع کے مارجن کم کرنے اور اپنے گاہکوں کو برقرار رکھنے کے لیے بھاری رعایتیں دینا پڑ رہی ہیں، جس سے ان کی مسابقت اور پائیداری متاثر ہو رہی ہے۔
لاکھوں نوکریاں خطرے میں ہیں، اور ان شعبوں میں پہلے ہی برطرفیاں اور اجرتوں کی ادائیگی میں تاخیر دیکھی جا رہی ہے، جو پوری برادریوں کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے خبردار کیا کہ ٹیرف کے اس نقصان کے باعث بین الاقوامی خریدار اپنے آرڈرز ویتنام، بنگلہ دیش اور کمبوڈیا جیسے حریف ممالک کی طرف منتقل کر رہے ہیں، جنہیں اس وقت ہمارے مقابلے میں ٹیرف کی برتری حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک بار یہ منڈیاں ہاتھ سے نکل گئیں تو انہیں دوبارہ حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگا، کیونکہ مستحکم سپلائی چینز عموماً واپس نہیں آتیں۔ اس کے طویل مدتی اور خطرناک اثرات ہمارے نوجوانوں، خصوصاً خواتین، کے مستقبل کے روزگار پر پڑیں گے۔
اسٹالن نے زور دیا کہ وزیرِ اعظم اس تعطل کو دو طرفہ معاہدے کے ذریعے جلد از جلد حل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری فیصلہ نہ صرف ہمارے برآمد کنندگان کی حالت بہتر کرے گا بلکہ بھارت کو ایک قابلِ اعتماد عالمی مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر بھی مضبوط بنائے گا۔





