رپورٹ : شفیق لغاری
سینیٹ کی ماحولیاتی تبدیلی کمیٹی کی چیئرپرسن شیری رحمان نے آتے ہی یہ خبر دی کہ پاکستان کا سب سے زیادہ آلودہ شہر لاہور ہے نا ملتان ، آلودگی میں سب شہروں میں سے ٹاپ پر پشاور شہرہے۔انھوں نے بتایا این آ ئی ایچ نے خبردار کیا ہے کہ بہت سے نٗے virus آرہے ہیں۔انفلوانزا بڑھ رہا ہے ۔بچے اور بزرگ احتیاط کریں ۔ انھوں نے بتایا !میں نے این آئی ایچ سے کہا کہ پھر آپ ویکسین فراہم کریں تو این آئی ایچ نےکہا کہ ویکسین تودستیاب available))نہیں ہے۔بس آپ احتیاط کریں۔نیز شیری رحمان نے مالوحیات کے منسٹر کی غیر حاضری پر افسوس کا اظہار کیا۔
سندھ کے نے بتایا کہ WHOکے معیار کے مطابق کراچی ماحولیاتی آلودگی کی حد پار کر چکا ہے۔کراچی میں سب سے زیادہ آلودگی کورنگی میں ہے اور عمر کوٹ کا ایٗر کوالٹی انڈکس خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔لیکن ہمارے پاس آلودگی کی مختلف اقسام کو چیک کرنے کے کوئی آلات نہیں ۔مثال کے طو ر پر ہم نہیں جان سکتے کہ کون سی انڈسٹری زیادہ پالوشن پھیلاتی ہے؟
انھوں نے بتایا کہ پلاسٹک کی اشیا ،جوتے،بوتلیں،کین،جوسز کے ڈبے اور ٹائر وغیرہ جلانے سے بہت زیادہ کاربن خارج ہوتی ہےجو آلودگی کا باعث بنتی ہے۔بھٹے اور فیکٹریاں وغیرہ پلاسٹک جلاتے ہیں جو انھیں سستی پڑتی ہے۔پنجاب نے پلاسٹک جلانے پر دو ماہ قبل پابندی عائد کر دی تھی۔لیکن نومبر سے سندھ میں بھی پلاسٹک جلانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
انھوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا!پولیس کی گاڑیاں سب سے زیادہ پالوشن پھیلاتی ہیں۔کوئی مائی کا لال ان کو چیک کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔اور اس سے پالوشن ایس۔ایچ۔او کا ڈالاپھیلاتا ہے کیوں کہ maintinenceکےفنڈز گاڑی پر خرچ ہی نہیں کیے جاتے۔
حیرت ناک بات ہے کہ صدر کا پل ہر دو سال بعد دھماکے سے اڑ جاتا تھا جب تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ صدر کے پل کے نیچے نالے میں کاربن ڈائی اکسایڈکی اتنی زیادہ مقدار جمع ہو جاتی کہ دھماکے سے پورا پل اڑ جاتا تھا۔
کےپی کے کا ماحولیاتی منظر
nvironmental protection agency کے پی کے سربراہ نے بتایا کہ فضا میں 56 فیصد کاربن گاڑیاں چھوڑتی ہیں جن میں 16 فیصد حصہ موٹر سائیکل ڈالتے ہیں۔اور 17 فیصد روڈ کے کناروں کی ڈسٹ آلودگی پیدا کرتی ہے۔کے پی کے میں 700 بھٹے ہیں جو فضا میں آلودگی پھیلاتے ہیں۔ انھیں کاربن فری پر کنورٹ کرنے کے لیے18 بلین درکار ہیں۔یہ منصوبہ پرائیویٹ سیکٹر سے ہی ممکن ہے۔
انڈسٹری بھی آلودگی پھیلانے کا بڑا ذریعہ ہے۔ہم کارخانوں پر چالان کرتے ہیں۔ اب بھی ہمارے ہائی کورٹ میں 700 اور 8 سے 10کیسز سپریم کورٹ میں چل رہے ہیں۔
پانی اسلام آباد کا!
صاف پانی کے ایشو پر شیری رحمان سی۔ڈی۔اے حکام پر برس پڑیں۔ انھوں نے کہا اسلام آباد کا سارا گندہ پانی راول ڈیم میں جا رہا ہے لیکن سی۔ڈی۔اے کے حکام صاف پانی کے حصول اور راول ڈیم کی ری ماڈلنگ کے لیے دو سال سے ٹینڈرٹینڈرکی کہانی چلا رہے ہیں۔انھوں نے کہا !یہ کیا گول گول پالیسی چل رہی ہے؟میں 20 سال صحافت کی ہے ۔کام کرنے کی نیت کا معلوم ہو جاتا ہے ۔کیا سی۔ڈی۔ اے کے پاس فنڈز کی کمی ہے؟ انھوں نے کہا آپ پبلک سرونٹ ہیںنا کہ سوسائٹیز کے فنڈز ڈویلپر! آپ کی ذمہ داری ہے شہریوں کو صاف پانی مہیا کرنا۔
شیری رحمان نے کہا ! پاکستان میں اتنے انسان دہشت گردی سے نہیں جتنے آلودگی سے مر رہے ہیں۔





