سمیر اسلیم کا بلاگ
چند روز قبل برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف میں معروف اسپورٹس رائٹر اولیور براؤن نے عمران خان بارے ایک مضمون میں ایک بہت اہم سوال اٹھایا گیا۔اولیور براؤن لکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ سے شیئر کی گئی معلومات کے مطابق پاکستان کا سابق وزیراعظم اور کرکٹ آئیکون روزانہ اپنے سیل میں 22 گھنٹے قید تنہائی میں گزار رہا ہے ، اور اس سیل کی مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کے فیملی وزٹ پر بھی پابندی عائد ہے۔ اس نے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ایلس جِل ایڈورڈز کی ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں عمران خان کی جیل کوٹھڑی کی بہت ہی تاریک منظر کشی کی گئی ہے۔ ایلس جل کے مطابق خان کو جس سیل میں رکھا گیا ہے وہ انتہائی چھوٹا، کم ہوادار، قدرتی روشنی سے محروم اور انتہائی سخت درجہ حرارت( بہت گرم اور بہت سرد) والا ہے جبکہ سیل میں کیڑے مکوڑوں اور حشرات کی بھرمار ہے جو انفیکشن کے ساتھ ساتھ متلی اور وزن میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
اولیور اپنے آرٹیکل میں کہتا ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ بظاہر عمران خان کی مزاحمت کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے، عمران خان کو توڑنے کے لئے انہیں "نفسیاتی اذیت” سے دو چار کیا جا رہا ہے، لیکن ان کے بیٹے قاسم کے مطابق وہ ان کے والد کو نہیں توڑ سکیں گے کیونکہ ان کو توڑنا بہت مشکل ہے۔
اسی طرح کی بات عمران خان کے فرسٹ کزن اور سخت سیاسی مخالف حفیظ اللّٰہ نیازی نے ایک بار کہی تھی کہ میں نے اسٹیبلشمنٹ، شہباز شریف اور صحافی دوستوں کو بتایا تھا کہ عمران خان اتنا دلیر ہے کہ وہ آپ کو حیران کر دیں گے۔ رمیز راجہ کے بھی عمران خان بارے خیالات ملتے جلتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا عمران خان آپ کو ہزار میں سے ہزار دفعہ غلط ثابت کرے گا۔ وہ نیت کا صاف، سخت محنتی اور بلا کا ذہین ہے اور اگر کسی میں یہ تینوں خوبیاں اکٹھی ہوجائیں تو اسے روکنا ناممکن ہوجاتا ہے۔عمران خان کی اب تک کی مزاحمت کو دیکھیں تو یہ ان سب باتوں کی تصدیق کرتی نظر آتی ہے۔ جیل میں بیٹھ کر بھی ملکی سیاست خان کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔ ٹی وی اسکرینوں پر چہرہ دکھانے پر پابندی ہے مگر ذکر پھر بھی اسی کا ہے۔
اولیور براؤن لکھتے ہیں کہ ہم پاکستان کی تاریخ کی ایک ایسی علامتی اور خاص شخصیت کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جو کرکٹ کی دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے عمران خان کو انتہائی نفیس آل راؤنڈر کے لقب سے پکارا ہے اور لکھا کہ خان پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں 1992 میں اپنی قوم کے واحد ورلڈ کپ کی فتح کے معمار ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اس ٹورنامنٹ میں خان نے اپنے کھلاڑیوں کو "کارنر ٹائیگرز کی طرح لڑنے” کی تلقین کی تھی۔ حتیٰ کہ خان نے ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں ٹاس کرتے وقت جو ٹی شرٹ زیب تن کر رکھی تھی اس پر ٹائیگر کی تصویر تھی
اولیور مزید لکھتے ہیں کہ 90 کی دہائی میں عمران خان کا امیج بطور ایک آئیڈیل کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک چمک دمک رکھنے والے نمایاں سنگل نوجوان کے طور پر بھی عروج پہ تھی۔ ثقافتی فرق کے باوجود 21 سالہ جمائما گولڈ سمتھ نے عمران خان سے شادی کی اور خود کو خان کے لئے وقف کر دیا۔ اب طلاق کے باوجود جمائما عمران خان کے لئے ہر سطح پر آواز اٹھا رہی ہیں، اسی سلسلے میں انھوں نے ایلون مسک کو خط بھی لکھا۔
عمران خان کے بیٹے ، بہنیں اور سابقہ بیوی تو خان کی اڈیالہ میں قید تنہائی اور بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی پر آواز اٹھا رہے ہیں مگر جو سوال اولیور براؤن نے کرکٹ کی دنیا سے پوچھا ہے وہ انتہائی اہم ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ عمران خان جیسے کرکٹ آئیکون کی قید پر دنیائے کرکٹ کیوں خاموش ہے؟ پاکستانی ریاست کے جبر کے خلاف آخر دنیا کرکٹ خان کی مدد کو کیوں نہیں پہنچی۔ براؤن نے انگلینڈ اور آسٹریلیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان آئی سی سی کے Hall of Fame میں شامل ہیں مگر آئی سی سی کی جانب سے خان کے لئے ایک آفیشل بیان تک نہیں آیا۔ براؤن نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ہندوستان کے زیر تسلط ہے، اور عمران خان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس پر ان کو کوئی اعتراض نہیں۔ عمران خان کے بیٹے بھی آئی سی سی سے مایوس ہو گئے ہیں کہ کرکٹ کی تاریخ کا یہ عظیم آئیکون قید تنہائی میں ہے اور آئی سی سی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
قاسم اور سلیمان نے خطرہ بھانپ لیا ہے کہ پاکستان میں موجودہ ہائبرڈ سپر میکس پلس نظام اپنے اقتدار کو طول دینے اور اپنی بقاء کے لئے ان کے والد کو جیل سے باہر نہیں آنے دیں گے ، دوسری طرف عمران خان بھی ڈیل کر کے انگلینڈ یا بنی گالا شفٹ ہونے والے نہیں ۔ لہذا بیٹوں نے عمران خان کی مدد کے لئے عالمی برادری سے اپیل اور تعاون کرنے کا پلان بنایا ہے جس کے لئے وہ نئے سال کے آغاز میں ہی جنیوا اور برسلز جا رہے ہیں ، اس کے بعد پاکستان آنے کا بھی پلان ہے۔ دیکھتے ہیں کہ تحریک انصاف جو نہ کر سکی وہ خان کے بیٹے کر پائیں گے۔





