شفیق لغاری کی رپورٹ
قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز،ریگولیشن اور ربطِ باہمی کمیٹی میں میڈیکل کالجز میں داخلوں اور اس بارے میں پیدا شدہ مسائل پرگفتگو ہوئی۔
ہر سال لاکھوں طالب علم میڈیکل کالجز میں میں داخلے کے لیے سرتوڑ محنت کرتے ہیں۔ہزاروں طالب علم بار بار امتحان دیتے ہیں۔ میڈیکل کونسل کو لاکھوں کی آمدنی ہوتی ہے لیکن اس کا کوئی مستقل حل نہیں پیش کیا گیا جس پر قومی اسمبلی کی مجوزہ کمیٹی میں اس پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔
کمیٹی میں بتایا گیا اس برس ایم ۔ڈی کیٹ میں 96000 اسٹوڈنس پاس ہوئے لیکن ہم32000 اسٹوڈنٹس کو داخلہ دے رہے ہیں۔باقی جو اسٹوڈنٹ ہیں ظاہر ہے باہر ملک تعلیم حاصل کرنے جائیں گے۔اس پر ہر برس 800 ملین ڈالر سرمایا خرچ ہوتا ہے اور طالب علم وہاں سے جو تعلیم حاصل کر کے آتے ہیں وہ پاکستان میں ایم۔ڈی کیٹ کا ٹیسٹ پاس نہیں کرپاتے جس کو پاس کیےبغیر آپ پاکستان میں میڈیکل سروسز فراہم کرنے کی پریکٹس نہیں کر سکتے۔ایسے طالب علم ڈگریاں ہاتھ میں لیے پھرتے ہیں لیکن وہ کسی کام کی نہیں۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفےٰ کمال نے بتایا کہ باہر ملک میں ایک ایف ایس سی فیل اسٹوڈنٹ کوبھی میڈیکل کالج میں داخلہ دے دیا گیا۔لیکن پاکستان میں کو ئی میڈیکل کالج اتنا گیا گزرا نہیں ہو گا جو ایسی گئی گزری حرکت کرے۔ہم اپنے سفارت خانے کے ذریعے ایسے میڈیکل کالجز سے رابطہ کریں گے کہ آپ آخر کچھ تو معیار رکھیں۔انھوں نے بتایا کہ 40000 اسٹوڈنٹ باہر ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ ان کو اپنے ملک میں کیسے روکا جائے؟انھوں نےکہا ہم میڈیکل کالجز بنا دیتے ہیں ۔پھر سوال کیا جاتا ہے اتنے ٹیچرز کہاں سے آئیں گے؟ کونسل کا کہنا ہے آپ ہمیں کام تو شروع کرنے دیں آخر!
کیا پالیمینٹیرینز کو خالص دوائی ملتی ہے؟کمیٹی میں پارلیمانی ممبران کو بھی جعلی دوائیں ملنے کا انکشاف!
چیئر مین کمیٹی مہیش کمار نے کہا ہے کہ ممبران کو جو میڈیسنز مل رہی ہیں وہ سب اسٹینڈرڈ ہیں۔میڈیکل اسٹوز والے میڈیسن پر 30 فیصد رعایت دیتے ہیں لیکن ایسی میڈیسن کی گارنٹی کوئی نہیں ہوتی۔ حیرت اور افسوس کی بات ہےکہ پارلیمان بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔انھوں نے کہاکہ ڈاکٹر اگر غیر ملکی دوائی لکھ دے توکہتے ہیںہمارے پاس ایسی ہی میڈیسن ملکی کمپنی کی موجود ہے وہ لے لیں ہمیں مجبوراً وہ میڈیسن لینا پڑتی ہے۔کبھی بھی پوری دوائی ایک دن میںنہیں ملی۔دو آج تو چار پرسوں!
وفاقی وزیرِ صحت مصطفےٰ کمال نے کہاآپ کم سے کم بولی دینے والے کو ٹھیکہ دیں گے تووہ ایسے ہی کرے گانا۔آپ بولی میں کم از کم کی شرط نا رکھیں، کوالٹی کی شرط رکھ دیں ،معاملہ حل ہو جائے گا۔آپ ٹینڈر دیں اوراس بار ٹھیکہ کسی اور کو دے دیں۔





