• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, اپریل 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

پی آئی اے : قومی ہیرو سے نجکاری تک کا سفر

by ویب ڈیسک
دسمبر 23, 2025
in بلاگ
0
خیبر پختونخوا حکومت کا پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار
0
SHARES
148
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

تحریر و تحقیق: مشہود صدیقی

ایسی ایئر لائن جس کا تصور پاکستان کے قیام سے قبل ہی جنم لے چکا تھا۔ سن 1945 میں قائد اعظم محمد علی جناح نے اس حقیقت کو بھانپا کہ اگر ایک نئی مملکت وجود میں آتی ہے جس کے دو بازو (مشرقی و مغربی پاکستان) ایک دوسرے سے 1100 میل کے فاصلے پر ہوں اور درمیان میں بھارت حائل ہو، تو ان دونوں حصوں کو جوڑنے کے لیے ایک مضبوط فضائی رابطہ درکار ہوگا جو کہ ان دونوں حصوں کے درمیان ایک "نال” کا کردار ادا کرے گا۔
1946 میں اس تصور کو وجود میں لانے کے لیے قائداعظم نے اس زمانے کے ممتاز صنعتکار مرزا احمد اصفہانی اور آدم جی حاجی داؤد سے رابطہ کیا اور انہیں ایک مسلم ملک کی نمائندہ فضائی کمپنی بنانے پر آمادہ کیا۔ یوں "اوریئنٹ ایئرویز” نامی کمپنی کو سن 1946 میں کلکتہ میں رجسٹر کیا گیا۔ یہ برطانوی ہند کی پہلی اور واحد مسلم ملکیت ایئر لائن تھی جس نے چار ڈکوٹا طیاروں سے اپنی پروازیں شروع کیں۔
قیام پاکستان کے بعد اوریئنٹ ایئرویز نے اپنا صدر دفتر کلکتہ سے کراچی منتقل کر لیا۔ تقسیم کے وقت ہزاروں مہاجرین کو بھارت سے پاکستان پہنچانے میں اوریئنٹ ایئرویز نے کلیدی کردار ادا کیا۔
1950 کی دہائی میں جب اوریئنٹ ایئرویز ایک نجی ادارہ ہونے کے باعث محدود وسائل کا شکار تھی اور بین الاقوامی ایئر لائنز سے مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی تھی تو حکومتِ پاکستان نے قومی سلامتی اور فضائی شعبے میں توسیع کے پیشِ نظر ایک سرکاری ایئر لائن کے قیام کا فیصلہ کیا۔ یوں 1955 میں ایک آرڈیننس کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن قائم کی گئی جس میں اوریئنٹ ایئرویز باقاعدہ طور پر پی آئی اے میں ضم ہو گئی۔
قیام کے بعد پی آئی اے نے عالمی سطح پر متعدد تاریخی اعزازات حاصل کیے جن میں 1955 میں لندن کے لیے پہلی بین الاقوامی پرواز، 1960 میں ایشیا کی پہلی ایئر لائن ہونے کا اعزاز کہ جس نے جیٹ ایج میں قدم رکھا، 1962 میں لندن سے کراچی کا فضائی سفر محض 6 گھنٹے 43 منٹ میں طے کر کے عالمی رفتار کا ریکارڈ، 1964 میں کمیونسٹ بلاک سے ہٹ کر دنیا کی پہلی ایئر لائن جس نے چین کے لیے پہلی پرواز شروع کی، اور 1985 میں دبئی کی نئی "ایمیریٹس ایئرلائن” کو طیارے، تکنیکی عملہ اور تربیت فراہم کر کے اس کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنا شامل ہیں۔
90 کی دہائی کے بعد سے پی آئی اے کا زوال شروع ہوا جس پر آخری ضرب 2020 میں لگی، جب کراچی میں ایک المناک حادثے کے بعد جعلی پائلٹ لائسنس اسکینڈل سامنے آیا۔ اس کے نتیجے میں پی آئی اے پر برطانیہ اور یورپ میں پروازوں پر پابندی لگ گئی، حالانکہ یہی روٹس پی آئی اے کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش تھے۔ اس اسکینڈل سے عالمی سطح پر بھی پی آئی اے کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔
اس زوال کی چند بڑی وجوہات میں سیاسی مداخلت اور اثر و رسوخ کا بے جا استعمال، ضرورت سے کہیں زیادہ عملہ (ایک وقت میں دنیا کا سب سے زیادہ Employee-to-Aircraft Ratio)، پرانا اور فرسودہ بیڑا وغیرہ شامل ہیں۔
بالآخر 2024 میں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا۔ 2024 میں ہی حکومت نے نجکاری کی پہلی کوشش بھی کی جو ناکام رہی۔ اسی تناظر میں اپریل 2025 میں حکومت نے نجکاری کے عمل کو ایک نئی تکنیک کے ساتھ مضبوط انداز میں دوبارہ شروع کیا، ای او آئیز جاری کیے گئے، اور آخرکار چار گروپس کو پی آئی اے کی نجکاری کے لیے فائنل کیا گیا۔ پی آئی اے کی نجکاری کی بڈنگ کا اہم مرحلہ 23 دسمبر 2025 کو ہونا طے پایا۔
آئیے، اب اس نجکاری کے عمل کو سمجھتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ سال 2023 تک پی آئی اے پر 800 بلین روپے سے زائد کا قرضہ تھا اور کمپنی تقریباً 104 بلین روپے کے نقصان پر چل رہی تھی۔ انہی حالات میں 2024 میں پہلی بڈنگ ہوئی، جب حکومت نے کم سے کم قیمت 85 بلین روپے رکھی، مگر اس وقت صرف ایک ہی بولی موصول ہوئی جو 10 بلین روپے کی تھی۔ یہ بولی حکومت کی طے کردہ قیمت سے کہیں کم تھی، جس کے باعث یہ نجکاری آخری مراحل تک نہ پہنچ سکی۔
سال 2024-25 میں حکومت نے ایک نئی تکنیک اپنائی جس کے نتیجے میں 21 سال بعد پہلی مرتبہ پی آئی اے کے فائنانشلز میں پرافٹ نظر آیا۔ یہ 26 بلین روپے کا ایک تکنیکی پرافٹ تھا۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے سو فیصد حکومتی ملکیت کی حامل ایک کمپنی "پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ” کے نام سے قائم کی اور پی آئی اے کا تقریباً 600 ارب روپے کا قرضہ اس کمپنی کے ذمے واجب الادا کر دیا۔
اس قرض کی ادائیگی کے لیے حکومت نے پی آئی اے کے کچھ غیر بنیادی اثاثے بھی اس کمپنی کو منتقل کیے، جن میں نیویارک کا Roosevelt Hotel، پیرس کا Scribe Hotel اور دیگر اہم ریئل اسٹیٹ شامل ہیں۔
چونکہ کوئی بھی عقل مند سرمایہ کار ایسی کمپنی نہیں خریدتا جس پر 800 ارب روپے کا قرضہ ہو اور جس کے کل اثاثہ جات اس سے کم مالیت کے ہوں، اس لیے اگر حکومت یہ قرض منتقل نہ کرتی تو پی آئی اے کی قیمت منفی ہو جاتی اور حکومت کو کسی کو ادائیگی کرنی پڑتی کہ وہ ایئر لائن لے جائے۔
قرض منتقل کرنے سے حکومت نے ایک نسبتاً صاف ستھری پی آئی اے تیار کی تاکہ سرمایہ کار نجکاری میں حصہ لیں اور ایئر لائن دوبارہ بینکوں سے قرضہ لینے یا نئے مالکان کے ذریعے نئے طیارے خریدنے کے قابل ہو سکے۔
اب جو 600 سے زائد ارب روپے کا قرض حکومت نے اپنی زیرِ انتظام کمپنی کو منتقل کیا، اس کی ادائیگی کے لیے حکومت نے یہ شیڈول بنایا کہ بینکوں سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے 10 سال کی توسیع لی گئی، شرح سود تقریباً 23 فیصد سے گھٹا کر 12 فیصد فکس کی گئی، اور ادائیگی کے ذرائع میں نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم، نیز نئی کمپنی کو منتقل کیے گئے اثاثوں کو بیچ کر یا کرائے پر دے کر حاصل ہونے والی آمدن کو شامل کیا گیا۔ اس کے باوجود بھی اگر قرض ادا نہ ہوا تو وزارتِ خزانہ سالانہ 32 ارب روپے سود ادا کرے گی۔
حکومت کی اس تکنیک کے جہاں چند فائدے نظر آتے ہیں، وہیں نقصانات بھی موجود ہیں۔ یوں مانیے کہ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف پی آئی اے بند ہونے سے بچ رہی ہے، تقریباً 100 ارب روپے کا سالانہ نقصان رک رہا ہے اور سرمایہ کاروں کو نجکاری کی طرف راغب کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف اگر اثاثے بیچ کر بھی قرض ادا نہ ہوا تو گزشتہ 30 سالہ انتظامی غلطیوں کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان، یعنی عام عوام کو اٹھانا پڑے گا، اور یوں دس سال میں 300 ارب روپے سے زائد رقم صرف سود کی ادائیگی میں چلی جائے گی۔
23 دسمبر کو پی آئی اے کی تقدیر ایک بولی میں طے ہوگی۔ صبح 11 بجے پی آئی اے کے 75 فیصد اسٹیک (حصص) کی سرکاری بولی کا عمل شروع ہوگا، جسے براہِ راست قومی ٹی وی پر نشر کیا جائے گا۔ کم سے کم سرکاری ریفرنس پرائس نجکاری کمیشن طے کرے گی۔ بولی دہندگان اپنی سیل شدہ مالیاتی بولیاں صبح 11 بجے تک جمع کروائیں گے اور لفافے براہِ راست قومی ٹی وی پر کھولے جائیں گے۔ اگر سب سے بڑی بولی حکومت کی خفیہ ریفرنس پرائس سے زیادہ ہوئی تو فاتح کا فوری اعلان کر دیا جائے گا، جبکہ کم ہونے کی صورت میں حکومت بولی دہندہ سے قیمت بڑھانے پر بات کرے گی۔
پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی نجکاری کے لیے ابتدا میں چار گروپس فائنل ہوئے تھے، تاہم گزشتہ ہفتے فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کے دستبردار ہونے کے بعد مقابلہ تین اہم امیدواروں تک محدود ہو گیا۔
ان تین امیدواروں میں دو کنسورشیم ہیں جبکہ ایک آزاد امیدوار ہے۔ کنسورشیم دراصل مختلف کمپنیوں یا افراد کا وہ مجموعہ ہوتا ہے جو کسی بڑے مقصد یا منصوبے کو پورا کرنے کے لیے اکٹھا ہوتا ہے۔
پہلا امیدوار یونس برادر گروپ کی قیادت میں "لکی کنسورشیم” ہے، جس کے اراکین میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ، ہب پاور ہولڈنگ (Hubco)، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ، میٹرو وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ اور پیگاسس ایئر لائن بطور ٹیکنیکل شراکت دار شامل ہیں۔
دوسرا امیدوار عارف حبیب گروپ کی قیادت میں "عارف حبیب کنسورشیم” ہے، جس میں عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزرز کمپنی، اے کے ڈی گروپ، سٹی اسکولز پرائیویٹ لمیٹڈ اور سبرا ایوی ایشن پارٹنرز بطور ٹیکنیکل شراکت دار شامل ہیں۔
آخری امیدوار "ایئر بلیو لمیٹڈ” ہے جو آزادانہ طور پر بولی دے رہی ہے۔
ان میں سے سب سے زیادہ بولی لگانے والا امیدوار فاتح قرار پائے گا۔ بولی میں پی آئی اے تقریباً 30 ارب روپے کی مثبت ایکوئٹی کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔ 75 فیصد حصص کی بولی کا 92.5 فیصد حصہ پی آئی اے کو ہی جائے گا جو نئے طیارے خریدنے میں استعمال ہوگا، جبکہ باقی 7.5 فیصد حکومت نقد وصول کرے گی۔
فاتح بولی دہندہ کو نہ صرف پی آئی اے کی 75 فیصد ملکیت اور کنٹرول حاصل ہوگا بلکہ پرانے طیاروں کے ساتھ ساتھ ایک تیار شدہ عالمی ایئر لائن انفراسٹرکچر، بیش قیمت لینڈنگ سلاٹس (جیسے لندن ہیٹرو، مانچسٹر اور پیرس)، پاکستان کے قومی پرچم کے تحت 97 ممالک میں پرواز کا حق، گرین شو آپشن کے تحت ایک سال میں باقی 25 فیصد حصص 12 فیصد پریمیم پر حاصل کرنے کا اختیار، اور پی آئی اے کے موخر شدہ 35 ارب روپے کے ٹیکس کریڈٹس بھی حاصل ہوں گے۔
نجکاری کے عمل کے لیے حکومت نے چند شرائط بھی رکھی ہیں، جن میں فاتح بولی دہندہ کی جانب سے تقریباً 8 ارب روپے کی فوری سرمایہ کاری اور کم از کمح ایک سال تک موجودہ ملازمین کی ملازمت کی ضمانت شامل ہے۔
23 دسمبر کی یہ بولی ایک کاروباری عمل سے کہیں بڑھ کر ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ پی آئی اے کون خریدے گا، اصل سوال یہ ہے کیا ہم قومی اداروں کو سیاسی مداخلت سے نجات دلواسکیں گے؟ کیا پی آئی اے ایک بار پھر پیشہ وارانہ بنیادوں پر کھڑی ہوکر آسمانوں میں وقار کرسکے گی یا ایک بار پھر ماضی کہ غلطیوں کا بوجھ عوام کے کندھوں پر پی باقی رہے گا؟ پی آئی اے کی نجکاری سے حاصل ہونے والا ہر فیصلہ براہِ راست عام شہری سے جڑا ہے۔ کیونکہ قرض، سود اور غلط فیصلوں کا بوجھ بالآخر عوام ہی اٹھاتی ہے۔ اس لیے یہ محض نجکاری نہیں بلکہ قومی احتساب کا لمحہ ہے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
H-1B لاٹری سسٹم ختم، امریکا نے ورک ویزا دینے کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا، بھارت کو بڑا دھچکا

H-1B لاٹری سسٹم ختم، امریکا نے ورک ویزا دینے کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا، بھارت کو بڑا دھچکا

عراق میں گرفتار پاکستانی شہریوں سے متعلق وائرل ویڈیو پر پاکستانی سفارتخانے کا نوٹس ،116 پاکستانی زیر حراست نکلے ، گرفتاری کی وجہ کیا بنی ؟ شہریوں کیلئے انتباہ جاری

عراق میں گرفتار پاکستانی شہریوں سے متعلق وائرل ویڈیو پر پاکستانی سفارتخانے کا نوٹس ،116 پاکستانی زیر حراست نکلے ، گرفتاری کی وجہ کیا بنی ؟ شہریوں کیلئے انتباہ جاری

اہم سیاسی و سرکاری شخصیات سے متعلق نازیبا ویڈیوز بنانے یا اپلوڈ کرنے کے معاملات ، پیکا ایکٹ کے تحت 24 گھنٹوں میں 23 مقدمات درج

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے

خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد سنگین مسئلہ بن گیا، مؤثر فورم نہ ہونے پر شدید تشویش

خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد سنگین مسئلہ بن گیا، مؤثر فورم نہ ہونے پر شدید تشویش

بیوی کا طلاق کا نوٹس بھیجنا گناہ بن گیا ، شوہر کا لرزہ خیز اقدام

بیوی کا طلاق کا نوٹس بھیجنا گناہ بن گیا ، شوہر کا لرزہ خیز اقدام

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In