رپورٹ: شفیق لغاری
پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرپرسن سید نفیسہ شاہ نے کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اگرچہ فزیکل ہراسمنٹ کے واقعات میں کسی حد تک کمی آئی ہے، تاہم ڈیجیٹل ہراسمنٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 22 کروڑ افراد کے پاس موبائل فون موجود ہیں اور ہراسمنٹ کا بڑا حصہ اب ڈیجیٹل صورت اختیار کر چکا ہے۔
کمیٹی ارکان نے بتایا کہ خواتین کو سوشل میڈیا اور موبائل فون کے ذریعے ہراساں کیا جاتا ہے، ذومعنی جملے بولے جاتے ہیں اور کردار کشی کی جاتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ دسمبر 2025 میں بھی خواتین کے پاس ایسا کوئی مؤثر فورم موجود نہیں جہاں وہ بلاخوف اپنی شکایات درج کرا سکیں۔
اجلاس میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں بسنے والی خواتین کے مسائل اجاگر کیے گئے۔ بتایا گیا کہ دیہات میں بیٹھی خاتون اگر ڈیجیٹل ہراسمنٹ کا شکار ہو جائے تو اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ پہلے تو اکثر خواتین کو اپنے حقوق کا شعور نہیں ہوتا، اگر شعور ہو بھی تو شکایت کرنے کی جرات نہیں، اور اگر جرات ہو تو شکایت درج کرانے کے لیے فورم ہی موجود نہیں۔
ارکانِ کمیٹی نے بتایا کہ ہراسمنٹ کے ساتھ ساتھ متاثرہ خواتین کو طلاق، طعنے، خاندانی دباؤ، سماجی لعن طعن، دھمکیوں اور مسلسل ذہنی اذیت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ اٹھایا گیا کہ جب انسان سب کچھ سہہ لے تو آخر جائے تو جائے کہاں؟
اجلاس میں بتایا گیا کہ متاثرہ خواتین کا واحد سہارا قریبی پولیس اسٹیشن ہوتا ہے، مگر پولیس کے پاس ڈیجیٹل ہراسمنٹ کے کیسز سننے اور کارروائی کرنے کے واضح اختیارات موجود نہیں۔ کئی مواقع پر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیتی ہے اور متاثرہ خواتین کو عدالت سے اجازت لانے کا کہا جاتا ہے۔
کمیٹی کی خواتین ارکان نے بھرپور انداز میں اپنے ذاتی تجربات بھی بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ ٹرول کیا جاتا ہے، ہمارے خلاف جھوٹی خبریں منٹوں میں وائرل کر دی جاتی ہیں، واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کیے جاتے ہیں اور بچوں کے اغوا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ خواتین ارکان نے کہا کہ اس کیفیت کو وہی سمجھ سکتا ہے جو اس مرحلے سے گزرے۔
اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ جب بااثر طبقے کی خواتین کی بات نہیں سنی جاتی تو عام خواتین کی فریاد کون سنے گا؟ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر مؤثر قانون سازی، خصوصی فورمز اور قابلِ عمل شکایتی نظام قائم کیا جائے۔
آ عندلیب کریں مل کے آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار، میں چلاؤں ہائے دل





