سمیرا سلیم کا بلاگ
آئی ایم ایف نے 2015 میں 2 ارب ڈالر قرض کے حصول کے لئے پی آئی اے کی نجکاری کی سخت شرط رکھی تو نواز شریف کی حکومت نے یہ شرط مان تو لی، مگر سیاسی ساکھ کھونے کے ڈر سے نجکاری نہ کر سکے۔ بڑھتے ہوئے خسارے کو کم کرنے کے بجائے نواز شریف نے پی آئی اے انتظامیہ کو پریمیئر سروس لانچ کرنے کی ہدایت کر دی ۔ جس پر سری لنکن ائیرلائن سے 3 طیارے ائیر بس A330 ویٹ لیز پر حاصل کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ لیز پر لئے گئے یہ طیارے اسلام آباد سے لندن پریمیئر سروس کے لئے استعمال ہوئے جس کا افتتاح14 اگست 2016 کو نواز شریف نے کیا۔ معاہدے کے تحت لیز پر حاصل کردہ طیارہ روزانہ 11 گھنٹے کی پرواز کرے گا اور فی گھنٹہ ہر طیارے کے 8 ہزار 1 سو ڈالر ادا کئے جائیں گے۔یہ معمول کے عالمی ریٹ سے بہت زیادہ تھے۔
ایک طیارے کی ایک گھنٹہ پرواز پر ادائیگی کی شرح تقریبا 6 ہزار ڈالرز تھی۔ اس طرح ایک طیارے کی 11 گھنٹے کی پرواز پر پی آئی اے کو روزانہ 88 ہزار ڈالرز خرچ کرنا پڑے۔ جہاز اتنی مہنگی ویٹ لیز پر لینے پر شدید تنقید کے باوجود سری لنکن طیارے واپس بھیجنے کی بجائے معاہدہ میں مزید تین ماہ کی توسیع کر دی گئی۔ اور مکمل بربادی پھیرنے کے بعد 2017 میں پی آئی اے نے سری لنکا کو طیارے واپس کیے۔ اسکے علاوہ سری لنکن ائیرلائن کو ائیر بس A330-300 کی اضافی پروازوں اور لیز کی قسطوں کی مد میں 20 لاکھ ڈالرز کی ادائیگی بھی کی گئی۔ اس پریمیئر سروس پر پی آئی اے کو اربوں روپے کا خسارہ ہوا جس کا انکشاف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایت پر 2006 سے 2016 تک لندن اسٹیشن کی اسپیشل آڈٹ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ پریمیئر سروس لانچ کرنے سے پی آئی اے کو 3 ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔
اب شہباز سرکار نے بالآخر پی آئی اے کو نیلام کر دیا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے 75 فیصد حصص 10.1ارب روپے نقد میں بزنس ٹائیکون عارف حبیب کی زیر قیادت کنسورشیم کو فروخت کر دیے ہیں۔ پاکستان کے قیمتی اثاثے کو بیچنے کے بعد حکومت اور حکومتی ترجمان کل سے عوام کو یوں مبارکبادیں دے رہے ہیں، جیسے پانی پت کی جنگ جیت لی ہو۔
بولی جیتنے والے کنسورشیم میں عارف حبیب، فواد احمد مختار، گوہر اعجاز اور عقیل کریم ڈھیڈھی شامل ہیں جبکہ فوجی فرٹیلائزرز نے بھی حصہ دار بننے کا اعلان کر دیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ان تمام حضرات کا ائیرلائن چلانے کا کوئی تجربہ نہیں، اب کھاد ،اسکول اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مالکان پی آئی اے کو چلائیں گے۔ جن کنسلٹنٹس کو ایک سال کے دورانیے میں اربوں کی پیمنٹ کی گئی ، وہ ایک بھی بیرونی سرمایہ کار یا ائیرلائن کو پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی لینے پر آمادہ نہ کر سکے۔
عام عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ 135 ارب میں پی آئی اے کو نیلام کر دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس 135 ارب کو حکومت اپنے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنا سکتی کیونکہ 125 ارب روپے تو پی آئی اے میں ہی انویسٹ ہو گا، مطلب سرمایہ کار کے پاس ہی رہے گا۔ حکومت کے حصے میں وہی 10 ارب روپے ہی آئیں گے جس کی پیشکش بلیو ورلڈ سٹی نے بھی کی تھی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بھی یہ کہا ہے کہ 135 ارب روپے میں سے حکومت کو 10 ارب روپے ملیں گے اور بقیہ رقم پی آئی اے کی بحالی میں لگے گی۔ مزیدبرآں حکومت نے پی آئی اے کے ذمے 670 ارب روپے کی ادائیگیاں حبیب گروپ کے بجائے خود پر لے لی ہیں یعنی یہ ادائیگیاں بھی پاکستانی ٹیکس دہندگان ادا کریں گے۔ رواں مالی سال پی آئی اے کے مجموعی قرضوں میں سے 35 ارب روپے قوم ادا کرے گی اور یہ سلسلہ اگلے چھ سال تک جاری رہے گا۔ پی آئی اے خریدنے والے کو اربوں روپے کے واجبات سے چھوٹ دی گئی ہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ حکومت نے ہوائی جہاز کی لیز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس بھی معاف کر دیا ہے۔ ایک سال میں پی آئی اے کو بیچنے کی دوسری کوشش کو کامیاب بنانے کے لئے ایک طرف اخبارات میں بھاری بھرکم اشتہارات دئیے گئے تو دوسری طرف بولی دہندگان کی آسانی کا بھی پورا خیال رکھا گیا۔ حکومت نے بولی لگانے والوں کو 36 ارب روپے کا ٹیکس کریڈٹ دیا، ایف بی آر اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے موجودہ 33 ارب روپے سے زائد کی واجبات کی ادائیگی کے لیے ٹائم فریم میں بھی توسیع کی گئی ہے۔ عارف حبیب نے پی آئی اے خریدنے کے بعد انکشاف کیا کہ یہ بہت بڑا کمفرٹ تھا کہ ہمیں حکومت کو صرف 10 ارب دینے پڑے باقی 125 ارب تو ہماری کمپنی میں ہی انویسٹ ہو جائیں گے، انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بولی اوپر جانے کا ان پر کوئی پریشر نہیں تھا۔ ظاہر ہے حکومت نے پی آئی اے کو پلیٹ میں سجا کر پیش کیا ہے تو کوئی پاگل ہی ہوگا جو ٹھکرائے۔ حالانکہ حکومت کی پی آئی اے کو بیچنے کی پہلی ناکام کوشش کے بعد ایک اوورسیز پاکستانی گروپ نے 100 ارب روپے کی آفر کی تھی اور ساتھ میں 200 ارب سے زائد کا قرض بھی اپنے ذمہ لیا تھا مگر اس پیشکش کو اربابِ اختیار سنجیدہ ہی نہ لیا۔
ماضی میں بلیو ورلڈ سٹی نے پی آئی اے کی خریداری کے لئے 10 ارب روپے کی بولی لگائی تھی جس پر بہت جگہ ہنسائی ہوئی تھی۔ مگر اب کیا ہوا؟ اب منافع میں چلتی پی آئی اے کو حکومت نے کنسلٹنٹس کو قومی خزانے سے اربوں کی مزید ادائیگیاں کر کے اسی پرانی قیمت پر بیچ دیا بس طریقہ واردات بدلا گیا۔ ابھی تو یہ نہیں معلوم کہ پی آئی اے کی نیویارک اور پیرس کی پراپرٹیز کس کی ملکیت میں رہیں گی۔ پی آئی اے میں اس وقت 6 ہزار نو سو کے قریب مستقل ملازمین کے علاوہ 2900 ملازمین کنٹریکٹ پر ہیں۔
عارف حبیب کا یہ جملہ معنی خیز ہے کہ پی آئی اے کے اچھے ملازمین کو برقرار رکھا جائے گا۔ تاہم حکومت نے نئے مالک کو ایک سال تک کسی بھی ملازم کو برطرف کرنے سے روک دیا ہے۔ اس کے علاؤہ حکومت نے پی آئی اے کے ملازمین کی میڈیکل کی ذمہ داریاں بھی الگ کر دی ہیں اور ان کو بھی پی آئی اے کی ہولڈنگ کمپنی میں ڈال دیا ہے۔





