شفیق لغاری کی رپورٹ
تصویر کا پہلا رخ: واپڈا سندھ میں واٹر سپلائی کی بجلی کاٹ دے تو تمام سندھ میں شور مچانے میں حق بہ جانب ہےکہ وفاق سندھ کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔
دوسری جانب یہ واپڈا کی عوام دشمنی ہے کیوںکہ چوتھے فلور پر رہنے والی اس فیملی کا کیا قصور ہے جس کاپانی بند کر دیا جائے۔ اور اس کو جون جولائی کی گرمی میں پانی بند ہونے کی وجہ یہ ہوکہ واپڈا نےٹیوب ویل کاکنکشن کاٹ دیا ہے، اس لیے پانی نہیں ہے۔اوپر سے لوڈ شیڈنگ بھی ہو۔ ان حالات میں پلازے کے دوسری، تیسری ،چوتھی ،پانچویں یا چھٹے فلورپر رہنے والے واپڈا کو ظالم،بے رحم اوربے حس نا کہیں تو کیا کہیں؟ ان حالات میں آدمی ٹینکر سے پانی خرید کر پینے پر مجبورکیوںکر نہ ہو؟ کراچی میں ٹینکر مافیا کا راج کیوں کرنہ ہو؟
تصویر کا دوسرا رخ: ہیسکو اور سیپکو کی پاور ڈویژن کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں فریاد!
محکمہ پولیس، آبپاشی اور دیگر ادارے واپڈا کے 27 ارب اور 40 کروڑ کے مقروض ہیں۔ہیسکو اور سیپکو نے 6 آسان قسطیں کر دیں جو 67 ماہ میں ادا کرنا تھیں۔واضح رہے یہ ادائیگیاں 2010 سے2016 کی ہیں جو 9 برس گزرنے کے باوجود واجب لادا ہیں۔ حالانکہ تمام ادارے اورحکومت سندھ کے ماتحت ہیں۔حکومت سندھ نے موقف اختیار کیا ہے۔ جو دوماہ تک بجلی کے واجبات ادا نہیں کرتا اور واپڈا سال بھر اس کو بجلی فراہم کرتا رہتاہے، ایسی وصولیاں سندھ گورنمنٹ کیوں کر کے دے۔ ایسی ریکوری کمپنیاں خود کریں۔پاور کمپنیوں کا کہنا ہے جب میٹر انفرادی نہیں ہیں اور پوری کالونیز اور پورے ادارے کامشترکا کنکشن ہے تو کنکشن کاٹنے کا مطلب ہےپورے محکمے اور ادارے میں اندھیروں کا راج!پہلے بھی لوڈشیڈنگ کی وجہ سےہماری انڈسٹری اور جی ڈی پی بری طرح تنزلی اورانحطاط کاشکار ہے۔





