تحریر : ظفر آہیر
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی کہانی خساروں، بدانتظامی اور حکومتی بے حسی کی ایک طویل داستان ہے۔ اکیس برس تک مسلسل نقصان اٹھانے والا یہ قومی ادارہ بالآخر اس مقام پر پہنچا جہاں ریاست کے پاس ایک ہی راستہ بچا: نجکاری
مگر اصل سوال یہ نہیں کہ پی آئی اے کیوں فروخت کی گئی، بلکہ یہ ہے کہ کیا نجکاری واقعی اس کے حالات بہتر بنا سکے گی، یا یہ قدم مسائل کو مزید گھمبیر کر دے گا؟
اگر ماضی کے خساروں کو سامنے رکھا جائے تو نجکاری ایک مجبوری نظر آتی ہے، نہ کہ انتخاب۔ 2004 سے 2024 تک پی آئی اے مسلسل خسارے میں رہی۔ بعض برسوں میں نقصان 30 سے 50 ارب روپے تک رہا، جبکہ 2023 میں خسارہ 100 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ یہ خسارے محض اعداد نہیں تھے بلکہ ناقص حکمرانی، سیاسی مداخلت، غیر ضروری بھرتیوں اور غیر پیشہ ورانہ فیصلوں کا نتیجہ تھے۔ ایسے میں حکومت کا یہ دعویٰ کہ وہ پی آئی اے کو خود بہتر کر لے گی، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
نجکاری کے حامیوں کا مؤقف سادہ ہے:
نجی شعبہ منافع کے بغیر نہیں چلتا، اس لیے وہ لاگت کم کرے گا، غیر ضروری اخراجات ختم کرے گا، جدید طیارے شامل کرے گا اور خدمات کا معیار بہتر بنائے گا۔ اگر واقعی ایسا ہوا تو پی آئی اے کئی برسوں بعد ایک مسابقتی ایئرلائن بن سکتی ہے۔ دنیا بھر میں اس کی مثالیں موجود ہیں جہاں سرکاری ایئرلائنز نجکاری کے بعد کامیاب ہوئیں۔
مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی سنجیدہ ہے۔ پی آئی اے کوئی عام کاروباری ادارہ نہیں بلکہ ایک حساس قومی اثاثہ رہا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ نجی مالک صرف منافع بخش روٹس پر توجہ دے گا، جبکہ خسارے والے مگر قومی اہمیت کے حامل روٹس ختم کر دیے جائیں گے۔ اس کا براہِ راست اثر عام مسافروں، دور دراز علاقوں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں پر پڑ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک بڑا سوال ملازمین کا بھی ہے۔ پی آئی اے میں ہزاروں افراد برسوں سے ملازم ہیں۔ سابقہ خساروں کے باوجود ان کی تنخواہیں قومی خزانے سے دی جاتی رہیں۔ نجکاری کے بعد خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر برطرفیاں ہوں گی، جس سے بیروزگاری اور سماجی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ عمل شفاف اور تدریجی نہ ہوا تو مزاحمت اور بحران جنم لے سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر نجکاری کے باوجود سیاسی اثر و رسوخ، غیر شفاف معاہدے اور ناقص نگرانی جاری رہی تو پی آئی اے کے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ محض ملکیت بدلنے سے ادارے نہیں بدلتے، جب تک نظام، احتساب اور حکمتِ عملی تبدیل نہ ہو۔
نتیجہ یہ ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری بذاتِ خود نہ مکمل حل ہے اور نہ مکمل تباہی۔ یہ ایک موقع ہے — نجات کا بھی اور ناکامی کا بھی۔ اگر نئی انتظامیہ کو مکمل پیشہ ورانہ آزادی، شفاف نگرانی اور واضح اہداف کے ساتھ کام کرنے دیا گیا تو ممکن ہے کہ پی آئی اے خساروں کی طویل پرواز کے بعد آخرکار محفوظ لینڈنگ کر لے۔ لیکن اگر ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں تو یہ نجکاری بھی تاریخ کی ایک اور ناکام اصلاح بن کر رہ جائے گی۔
فیصلہ اب حکومت، نئی انتظامیہ اور نظامِ احتساب کے ہاتھ میں ہے۔ پی آئی اے کا مستقبل اسی بات سے جڑا ہے کہ ہم نے اس تجربے سے واقعی کچھ سیکھا ہے یا نہیں۔





