• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, اپریل 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

پی آئی اے کی نجکاری۔۔نجات کا راستہ یا ایک نیا خطرہ؟

by ویب ڈیسک
دسمبر 24, 2025
in بلاگ
0
پی آئی اے کی نجکاری۔۔نجات کا راستہ یا ایک نیا خطرہ؟
0
SHARES
10
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

تحریر : ظفر آہیر

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی کہانی خساروں، بدانتظامی اور حکومتی بے حسی کی ایک طویل داستان ہے۔ اکیس برس تک مسلسل نقصان اٹھانے والا یہ قومی ادارہ بالآخر اس مقام پر پہنچا جہاں ریاست کے پاس ایک ہی راستہ بچا: نجکاری

مگر اصل سوال یہ نہیں کہ پی آئی اے کیوں فروخت کی گئی، بلکہ یہ ہے کہ کیا نجکاری واقعی اس کے حالات بہتر بنا سکے گی، یا یہ قدم مسائل کو مزید گھمبیر کر دے گا؟

اگر ماضی کے خساروں کو سامنے رکھا جائے تو نجکاری ایک مجبوری نظر آتی ہے، نہ کہ انتخاب۔ 2004 سے 2024 تک پی آئی اے مسلسل خسارے میں رہی۔ بعض برسوں میں نقصان 30 سے 50 ارب روپے تک رہا، جبکہ 2023 میں خسارہ 100 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ یہ خسارے محض اعداد نہیں تھے بلکہ ناقص حکمرانی، سیاسی مداخلت، غیر ضروری بھرتیوں اور غیر پیشہ ورانہ فیصلوں کا نتیجہ تھے۔ ایسے میں حکومت کا یہ دعویٰ کہ وہ پی آئی اے کو خود بہتر کر لے گی، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

نجکاری کے حامیوں کا مؤقف سادہ ہے:
نجی شعبہ منافع کے بغیر نہیں چلتا، اس لیے وہ لاگت کم کرے گا، غیر ضروری اخراجات ختم کرے گا، جدید طیارے شامل کرے گا اور خدمات کا معیار بہتر بنائے گا۔ اگر واقعی ایسا ہوا تو پی آئی اے کئی برسوں بعد ایک مسابقتی ایئرلائن بن سکتی ہے۔ دنیا بھر میں اس کی مثالیں موجود ہیں جہاں سرکاری ایئرلائنز نجکاری کے بعد کامیاب ہوئیں۔
مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی سنجیدہ ہے۔ پی آئی اے کوئی عام کاروباری ادارہ نہیں بلکہ ایک حساس قومی اثاثہ رہا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ نجی مالک صرف منافع بخش روٹس پر توجہ دے گا، جبکہ خسارے والے مگر قومی اہمیت کے حامل روٹس ختم کر دیے جائیں گے۔ اس کا براہِ راست اثر عام مسافروں، دور دراز علاقوں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں پر پڑ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک بڑا سوال ملازمین کا بھی ہے۔ پی آئی اے میں ہزاروں افراد برسوں سے ملازم ہیں۔ سابقہ خساروں کے باوجود ان کی تنخواہیں قومی خزانے سے دی جاتی رہیں۔ نجکاری کے بعد خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر برطرفیاں ہوں گی، جس سے بیروزگاری اور سماجی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ عمل شفاف اور تدریجی نہ ہوا تو مزاحمت اور بحران جنم لے سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر نجکاری کے باوجود سیاسی اثر و رسوخ، غیر شفاف معاہدے اور ناقص نگرانی جاری رہی تو پی آئی اے کے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ محض ملکیت بدلنے سے ادارے نہیں بدلتے، جب تک نظام، احتساب اور حکمتِ عملی تبدیل نہ ہو۔
نتیجہ یہ ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری بذاتِ خود نہ مکمل حل ہے اور نہ مکمل تباہی۔ یہ ایک موقع ہے — نجات کا بھی اور ناکامی کا بھی۔ اگر نئی انتظامیہ کو مکمل پیشہ ورانہ آزادی، شفاف نگرانی اور واضح اہداف کے ساتھ کام کرنے دیا گیا تو ممکن ہے کہ پی آئی اے خساروں کی طویل پرواز کے بعد آخرکار محفوظ لینڈنگ کر لے۔ لیکن اگر ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں تو یہ نجکاری بھی تاریخ کی ایک اور ناکام اصلاح بن کر رہ جائے گی۔
فیصلہ اب حکومت، نئی انتظامیہ اور نظامِ احتساب کے ہاتھ میں ہے۔ پی آئی اے کا مستقبل اسی بات سے جڑا ہے کہ ہم نے اس تجربے سے واقعی کچھ سیکھا ہے یا نہیں۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
امریکی ویزا مسترد ہونے کا دکھ ،بھارتی خاتون ڈاکٹر نے مبینہ طور پر اپنی جان لے لی ، ملازمہ نے کیا دیکھا ؟ 

اسلام آباد میں دل دہلا دینے والا واقعہ، غیر ملکی خاتون کی پراسرار موت ، چھت سے گر کر جاں بحق

لیبیا آرمی چیف کے طیارہ حادثے میں بڑی پیشرفت، بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر برآمد

لیبیا آرمی چیف کے طیارہ حادثے میں بڑی پیشرفت، بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر برآمد

اسلام آباد کے آئی ایٹ سیکٹر میں ڈرفٹنگ کرنے، پھر پولیس کے ڈر سے بھاگتے ہوئے خواتین کو ہٹ کرنے والے منچلوں کی پولیس نے پھینٹی لگا دی

اسلام آباد کے آئی ایٹ سیکٹر میں ڈرفٹنگ کرنے، پھر پولیس کے ڈر سے بھاگتے ہوئے خواتین کو ہٹ کرنے والے منچلوں کی پولیس نے پھینٹی لگا دی

پرواز کے ٹھیک 16 منٹ بعد طیارہ ریڈار سے غائب ہو ا تھا ۔۔لیبیا کے آرمی چیف کا طیارہ کیوں تباہ ہوا؟

پرواز کے ٹھیک 16 منٹ بعد طیارہ ریڈار سے غائب ہو ا تھا ۔۔لیبیا کے آرمی چیف کا طیارہ کیوں تباہ ہوا؟

کال سینٹرز جرائم کا گڑھ، 60 ملین ڈالر کے فراڈ کا انکشاف ، وزیرداخلہ سندھ تفصیلات سامنے لے آئے

کال سینٹرز جرائم کا گڑھ، 60 ملین ڈالر کے فراڈ کا انکشاف ، وزیرداخلہ سندھ تفصیلات سامنے لے آئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In